Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

ایک سفر

Urdu book, p. 641

By Maulana Wahiduddin Khan

ڈس ایڈوانٹیج کے ساتھ یہاں ایڈوانٹیج بھی ضرور پایا جائے گا۔ اور انڈیا یقینی طور پر کوئی مستثنی ملک نہیں۔ چنانچہ انڈیا میں اگر ایک بابری مسجد ڈھائی گئی ہے تو اس کے بعد بھی انڈیا میں ساڑھے تین لاکھ مسجدیں باقی ہیں۔ اور وہاں پوری آزادی کے ساتھ عبادت کا عمل کیا جارہاہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انڈیا میں اگر ایک عصر ہے تو عین اسی وقت وہاں یسر کی تعد اد ساڑھے تین لاکھ ہے۔ اس لئے ہمارے لئے مایوسی کا کوئی سوال نہیں۔ مرکز کے اس اجتماع میں ایک اطالوی نوجوان بھی موجود تھا۔ ان سے پہلی ملاقات یہیں ہوئی وہ سائنس کے مضمون میں پوسٹ گریجویٹ کا کورس کر رہے ہیں۔ وہ ایک سادہ فطرت نوجوان تھے۔ اسلام سے کچھ واقفیت ہوئی۔ اس سے وہ متاثر ہوگئے۔ اب وہ اسلام کے برحق ہونے پر پوری طرح مطمئن ہیں۔ ان کے کمرہ میں اسلامی کتاہیں سب سے زیادہ نظر آتی ہیں۔ وہ ابھی تک اپنے والدین کے ساتھ رہتے ہیں۔ ان کی ماں کٹڑ مسیحی ہیں۔ ان کے اندر تڑپ ہے کہ وہ باقاعدہ نماز ادا کریں۔ انھیں اندیشہ ہے کہ اگر انھوں نے نماز پڑھنا شروع کیا تو ان کی ماں سخت ناراض ہوگی اور پھر اس کے بعد انھیں غیر معمولی مشکلات پیش آئیں گی۔ کسی مسلمان سے ان کی ملاقات ہوئی۔ اس نے ان کا کیس سننے کے بعد کہا کہ جب آپ اسلام کو اپنا مذہب مان چکے ہیں تو اب تمھارے لئے نماز پڑھنا ضروری ہے ورنہ تم جہنم میں جاؤ گے ۔ وہ نوجوان اس سے بہت گھبرا یا ہوا تھا۔ مجھ سے گفتگو ہوئی تو میں نے کہا کہ مذکورہ مسلمان نے آپ کو غلط بتایا۔ قرآن میں صاف طور پر بتا یا گیا ہے کہ انسان کے اوپر بقدر استطاعت ذمہ داری ہے۔ آپ کو جب موقع ہو پردہ میں نماز پڑھ لیں۔ مگر اعلان کے ساتھ آپ نماز نہ پڑھیں۔ فی الحال سب سے زیادہ ضروری یہ ہے کہ آپ کی تعلیم مکمل ہو جائے۔ تعلیم کی تکمیل کے بعد آپ کہیں بھی رہ سکتے ہیں۔ اس کے بعد آپ کے لئے اس قسم کا مسئلہ نہیں رہے گا۔ مذکورہ قسم کے مسلمانوں کے بارہ میں کم سے کم جو بات کہی جاسکتی ہے وہ یہ کہ وہ مسائل فقہ کو جانتے ہیں۔ مگر وہ مسائل دعوت کو نہیں جانتے۔ مغرب کے ایک تعلیم یافتہ نوجوان بود ساموت الحسین (۱۹۷۴) سے ملاقات ہوئی۔ ان کا اصل

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page