Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

ایک سفر

Urdu book, p. 642

By Maulana Wahiduddin Khan

نام الحسین ہے اور بود ساد موت خاندانی لقب ہے۔ دوسرے ملکوں میں خاندانی نام آخر میں ہوتا ہے اور مغرب میں فرانس کے اثر سے پہلے لکھا جاتا ہے۔ جیسے کہ میرا نام وحید الدین خان لکھا جاتا ہے۔ مغرب کے اصول پر لکھنا ہو تو اس کو خان وحید الدین لکھا جائے گا۔ بود ساموت الحسین بولو نیا میں رہتے ہیں جو میلان سے تین سو کلومیٹر دور اٹلی کا ایک شہر ہے۔ پچھلی شام کو انھوں نے ٹی وی پر مجھ کو گور با چیف سے ہاتھ ملاتے ہوئے دیکھا۔ اس سے انھیں معلوم ہوا کہ اس وقت میں میلان میں ہوں۔ وہ رات کو سفر کر کے صبح سویرے میلان پہنچے۔ اور ہوٹل میں مجھ سے ملاقات کی۔ انھوں نے بتایا کہ میں اطالیوں میں دعوت کا کام کر رہا ہوں۔ مگر اس راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ خود مسلمان ہیں۔ نام نہاد مسلم جماعتوں کے لوگ یہاں ہر شہر میں موجود ہیں۔ وہ صرف ایک کام میں مشغول ہیں۔ مسلم حکمرانوں کے خلاف لوگوں کے جذبات ابھار کر مال جمع کرنا اور لیڈری حاصل کرنا۔ خالص دعوت کے کام کو وہ پسند نہیں کرتے کیوں کہ اس میں انھیں اپنی جڑ کٹتی ہوئی نظر آتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس ملک میں بہت سے لوگ حق کے متلاشی ہیں۔ مگر وہ ان کے لئے ہدایت کا دروازہ بند کر رہے ہیں (و هكذا 11 المنهج المنحرف يتم اغلاق ابواب الهداية عوض فتحها امام الباحثين عن الحق، وما اكثرهم ) میں نے کہا کہ آپ نے صحیح کہا۔ اسلامی تحریکات کے نام پر آجکل جو جماعتیں ہر جگہ کام کر رہی ہیں وہ اپنے منحرف فکر کی بنا پر صحیح اسلام کی راہ میں سخت رکاوٹ پیدا کر رہی ہیں۔ مگر آپ جیسے لوگوں کے لئے مایوسی کی کوئی ضرورت نہیں۔ کیوں کہ دشواریوں کے اضافہ سے اجر میں اضافہ ہوتا ہے (مع كثرة العراقتیل يزداد الاجر) ایک پروگرام میں شنتو مذہب کے عبادتی پروگرام کو دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ ایک شخص سیدھا کھڑا ہوا۔ پھر اس نے دونوں ہاتھ باندھے۔ اس کے بعد وہ چند بار رکوع کے انداز میں جھکا۔ اس کے بعد چھوٹی سی کتاب لے کر اس سے پڑھنا شروع کیا۔ غالباً یہ دعا کی کتاب تھی۔ دوسرے مذاہب کی عبادت میں جھکنا ہے مگر سجدہ نہیں ہے۔ جھکنا اطاعت کی علامت ہے اور سجدہ قربت کی علامت۔ اسلام کے سوا دوسرے مذاہب کی عبادتیں اطاعت کا سبق دیتی ہیں مگر

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page