Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

ایک سفر

Urdu book, p. 646

By Maulana Wahiduddin Khan

فلسطینی سمیت پوری مسلم دنیا ستمبر 1993 سے پہلے فلسطین سے اسرائیلی حکومت ختم کرنے سے کم کسی بات کو سننے پر راضی نہ تھی۔ مگر آج اس کے محدود ٹکڑے پر وہ خوش آمدید کے الفاظ رقم کر رہے ہیں۔ شعوری فیصلہ کے تحت وہ حقیقت پسندی کو اختیار نہ کر سکے۔ مگر حالات کے دباؤ نے انھیں حقیقت پسندی کی روش اختیار کرنے پر مجبور کر دیا۔ یہی ساری دنیا میں مسلمانوں کا حال ہے۔ فیصلہ صرف وہ ہے جو شعور اور ارادہ کے تحت ظہور میں آیا ہو۔ دباؤ کے تحت کیا جانے والا فیصلہ کوئی فیصلہ نہیں۔ اور نہ ایسے فیصلے کا کوئی دور رس نتیجہ کبھی برآمد ہو سکتا ہے۔ 23 ستمبر کو دو بجے لندن پہنچا۔ جہاز سے اتر کر ایئر پورٹ پر چلتے ہوئے ایک جگہ تین دروازے بنے ہوئے تھے۔ دو دروازوں پر لکھا ہوا تھا: European Community Nationals اور ایک کنارے کے دروازہ پر یہ الفاظ تھے: All other passports یہ صرف گزرگاہ کے لئے تھا۔ انتظامی ضرورت کے تحت ایسی تقسیم میں کوئی حرج نہیں مگر مجرد گزرگاہ کے لیے یہ تقسیم racism کی طرف لے جاتی ہے۔ جس فلائٹ سے، ہمیں لندن پہنچنا تھا بچوں کہ وہ میلان میں چھوٹ گئی اور ہم دوسرے جہاز سے لندن پہنچے۔ اس لئے لندن ایئر پورٹ پر جو لوگ ہماری رہنمائی کے لئے آئے تھے وہ مایوس ہو کر واپس چلے گئے۔ اب ہمارے سامنے سوال یہ تھا کہ ان سے کس طرح ربط قائم کیا جائے ہم نے برمنگھم میں جناب شمشاد خاں صاحب کو خبر دی کہ ہم لندن ایئر پورٹ پر ہیں۔ اس کے بعد ایسا ہوا کہ لندن کے ساتھیوں نے بھی شمشاد خاں صاحب سے برائے معلومات ربط قائم کیا۔ انھوں نے بتایا کہ ہم لندن ایئر پورٹ پر پہنچ چکے ہیں۔ چنانچہ وہ دوبارہ ایئر پورٹ پر آئے اور آگے کے لئے ہماری رہنمائی کی۔ کیوں کہ ہمیں بذریعہ ٹرین وگن پہنچنا تھا۔ 23 ستمبر کی دوپہر کو، ہم برٹش ریلوے اسٹیشن الیوستن (Euston) پر بیٹھے ہوئے تھے۔ وہ ٹرین جلد ہی آنے والی تھی جس کے ذریعہ ہمیں وگن جانا تھا۔ اتنے میں پولیس کی وردی میں کئی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page