ایک سفر
Urdu book, p. 645
By Maulana Wahiduddin Khan
سعودی عرب میں "ماڈرنائزیشن" کا عمل تیزی سے جاری ہو گیا ہے جو یہاں کے ہر شعبہ میں محسوس طور پر نظر آتا ہے۔ ایک مضمون کا عنوان تھا : Arabs count the cost of peace. اس میں بتایا گیا تھا کہ ۱۹۷۹ میں ایران کے "اسلامی ریولیوشن" کے بعد سعودی عرب پہلے سے زیادہ امریکہ پر (dependent) ہو گیا۔ کیوں کہ اس انقلاب کے بعد ایران اسلامک ورلڈ کی لیڈر شپ حاصل کرنے کے لئے سعودیہ کا حریف بن گیا تھا۔ اب ویسٹرن ٹکنالوجی کے لئے ریاض کی ضرورت بہت بڑھ گئی۔ سعودی عرب ساری دنیا کے مسلمانوں کو بہت بڑی مالی امداد دیتا ہے۔ ۱۹۹۲ میں سعودیہ نے مختلف ملکوں کے مسلمانوں کو ۸۰۰ ملین پونڈ دئے۔ عراق - کویت جنگ میں سعودیہ نے ۳ بلین پونڈ خرچ کیا۔ سعودیہ نے اس سے پہلے عراق کی بڑے پیمانے پر مالی مدد کی تھی ۔ مگر ۱۹۹۲ میں جب سعودیہ پر عراقی میزائل (scud missiles) گرنے لگے تو معلوم ہوا کہ پیسہ اچھے تعلقات کے لئے کافی نہیں ۔ اردن اور پی ایل او کو سعودی عرب سے بہت بڑی مالی امداد مل رہی تھی۔ مگر دونوں نے عراق کا ساتھ دیا۔ یمن کا بہت بڑا اقتصادی انحصار سعودی عرب پر تھا مگر وہ بھی عراق کا ساتھی بن گیا۔ اس پورے علاقے میں ایران کا خطرہ ایک مستقل مسئلہ تھا۔ ان چیزوں نے سعودی عرب کو اس قطعی رائے تک پہنچا دیا کہ وہ عربوں یا مسلم ملکوں کے مقابلہ میں مغربی ٹکنالوجی کے ذریعہ اپنے آپ کو زیادہ محفوظ بنا سکتے ہیں۔ مغربی پریس کتنی مہارت کے ساتھ چیزوں کو پیش کرتا ہے، اس کی ایک مثال ٹائمس کا صفحہ کم کا ایک مضمون تھا۔ اس مضمون کے اوپر ایک تصویر دی گئی تھی جس کو ہم اس صفحہ کے نیچے نقل کر رہے ہیں۔ فلسطین کے ایک بے حد چھوٹے سے علاقہ میں اسرائیل نے فلسطینیوں کو محدود آزادی (limited autonomy) کا حق دیا ہے۔ یہاں فلسطینیوں نے ایک سرحدی دیوار پر جلی حرفوں میں یہ لکھ دیا ہے: پی ایل او کی مملکت میں خوش آمدید ۔ اس کے ساتھ کیپشن میں لکھا ہوا تھا کہ شرق اوسط کی تاریخ کے ایک نازک موقع پر ، تیل کی گرتی ہوئی قیمتوں اور خلیج کی جنگ کی قیمت نے سعودیول اور فلسطینیوں کو نوشئہ دیوار پڑھنے پر مجبور کر دیا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader