Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

ایک سفر

Urdu book, p. 651

By Maulana Wahiduddin Khan

بھی کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔ پھر اس کو مزید جاری رکھنے کا کیا فائدہ۔ میں نے ایک مجلس میں کہا کہ دو سو سال پہلے مسلمان غلبہ کی حالت میں تھے۔ اس کے بعد ان پر ضعف کا دور آیا۔ اس کے بعد یورپی استعمار نے ان کو مغلوب کر لیا۔ ۱۳ ستمبر ۱۹۹۳ کو فلسطینی لیڈروں کا اسرائیل کا اعتراف کر لینے کے بعد ملت کی تاریخ ذلت کے دور میں داخل ہو گئی۔ اس درمیان میں ہزاروں، بڑی بڑی شخصیات پیدا ہوئیں، سینکڑوں بڑی بڑی تحریکیں اٹھیں۔ مسلمانوں نے بے شمار قربانیاں دیں مگر نتیجہ معکوس صورت میں نکلا۔ غلبہ کے بعد ضعف، اس کے بعد مغلوبیت اور اس کے بعد ذلت، یہ تاریخ بتاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نظر میں موجودہ پر شور تحریکوں کی کوئی قیمت نہیں۔ اگر ان کی قیمت ہوتی تو موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کا یہ انجام نہ ہوتا۔ یہاں کی ایک مسجد میں دیوار پر ایک تختی لگی ہوئی نظر آئی۔ نیچے رحل کی صورت میں پیتل کی دو تلواریں بنی ہوئی تھیں اور اس کے اوپر اللہ لکھا ہوا تھا۔ پوچھنے پر لوگوں نے بتایا کہ عرب ممالک میں اس قسم کی تختی عام ہو گئی ہے۔ مسجد، ادارہ، مکان ہر جگہ لوگوں نے اس کو لگا رکھا ہے۔ مجھے اس کو دیکھ کر سخت تکلیف ہوئی۔ میں نے کہا کہ اللہ کے رسول نے تو دعا میں کہا تھا کہ اللهم انت السلام ومنك السلام واليك يرجع السلام۔ مگر یہ مسلمان اس پر راضی نہیں ہوئے۔ اس کو بدل کر انھوں نے اپنی دیواروں پر یہ لکھ دیا کہ ـــــ اللهم انت السيف۔ یہ بلا شبہ جرم ہے نہ کہ کوئی اسلامی عمل۔ ایک صاحب نے سوال کیا کہ اسلامی عقیدہ کے مطابق خدا لا احد و دہے۔ وہ کیسے؟ میں نے کہا کائنات محدود ہے اور محدود کو محدود پیدا نہیں کر سکتا۔ صرف لامحدود ہی محدود کو پیدا کر سکتا ہے۔ (الكون محدود وهذا يدل على ان الخالق لا محدود۔ فان لم يكن الخالق لامحدود لما استطاع ان يخلق المحدود) دگن کا ایک علاقائی اخبار نکلتا ہے اس کا نام وگن رپورٹر (Wigan Reporter) ہے۔ اس کے شمارہ ۲۳ ستمبر ۱۹۹۳ میں جیک وھٹکر (Jack Whittaker) کے نام سے ایک مراسلہ پڑھا۔ اس

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page