ایک سفر
Urdu book, p. 652
By Maulana Wahiduddin Khan
کے آخر میں یہ الفاظ درج تھے کہ میں خود سوچتا ہوں اور میں خود اپنی رائے قائم کرتا ہوں۔ مگر ہمیشہ دوسروں کا نقطہ نظر سننے کا خواہاں مندر رہتا ہوں۔ ممکن ہے کہ میں ان سے اتفاق نہ کروں مگر میں ان کا احترام کرتا ہوں : I do my own thinking and form my own opinions but always willing to listen to other people's opinions. I may not agree but I do respect them. (Jack Whittacker) مکہ مدینہ کا فرق بتاتے ہوئے کچھ عرب نوجوانوں سے میں نے ہجرت کے بارے میں کہا : بعد ما نظرت في هذه الحقائق فسوف تقول ان الهجرة لم يكن كفرا ربل الهجرة كانت الذهاب من اللافرصة الى الفرصة - ایک عرب نوجوان نے ۲۵ ستمبر کی ملاقات میں بتایا کہ وہ اسلامی مرکز کی عربی مطبوعات سے متاثر ہوئے۔ اس کے بعد ایک تقلیری شخص ان سے جھگڑنے لگا۔ اور کہا کہ" وحید الدین خاں کی کتاب مت پڑھو ورنہ تم گمراہ ہو جاؤ گے۔ آخر کار دونوں میں طے ہوا کہ وہ مانچسٹر کے ایک عالم کے پاس جائیں اور اس سے اس کا فیصلہ لیں۔ چنانچہ دونوں مانچسٹر کے عالم کے پاس گئے۔ عالم نے مذکورہ شخص سے پوچھا کہ وحید الدین خاں کی کتابوں میں آپ نے کیا غلطی پائی ہے۔ اس کے بعد اس شخص نے "حكمة الدعوة" پیش کی اور اس کی ایک غلطی بتائی۔ عالم نے کتاب کا مذکورہ صفحہ پڑھا اور اس شخص نے کہا کہ تم مجھ کو عجمی معلوم ہوتے ہو۔ اس عبارت میں وہ بات موجود ہی نہیں جو تم اس کی طرف منسوب کرتے ہو۔ وہ اسی طرح کی باتیں کرتے رہے۔ آخر میں جب دونوں وہاں سے اٹھے تو مذکورہ عالم نے عرب نوجوان کے کان میں آہستہ سے کہا کہ : لقد أظهر الله لك الحق۔ یہ واقعہ ۱۰ جون ۱۹۹۳ کا ہے جو مانچسٹر میں پیش آیا۔ قاہرہ سے ایک مجلہ شائع ہوتا ہے۔ اس کا نام احداث العالم الاسلامی ہے۔ اس کا شمارہ ۱۹۹۳ میں نے دیکھا جو ۷۰ صفحات پر مشتمل تھا۔ اس میں ہندوستان کے مسلمانوں کے بارے میں ۸ صفحات کی رپورٹ تھی۔ اس کو پڑھ کر میں نے کچھ عربوں سے کہا : اذا ما قرأتم هذه الصفحات عن الهند فسوف تستبطون منها ان الهند هي بلد المشاكل وليست بلد الامكانيات. والهند في الحقيقة ، كغيرها من البلدان، هي بلد الفرص

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader