ایک سفر
Urdu book, p. 653
By Maulana Wahiduddin Khan
والإمكانية - وكيف لا تكون كذلك - والله سبحانه وتعالى يقول في القرآن : إنّ مع العسر ليسا ، إنّ مع العسر يسيراً ۔ ۲۴ ستمبر کو لیبیا کے ایک صاحب سے ملاقات ہوئی ۔ وہ کسی ضرورت کے تحت انگلینڈ آئے تھے۔ میں نے پوچھا کہ امریکہ نے لیبیا کے خلاف جو پابندیاں لگائی ہیں ان کے بارہ میں لیبی عوام کی کیا رائے ہے۔ انھوں نے فورا کہا: الليبيون نتيجة الظلم السياسى والحرمان الاقتصادي ولتحرر من القيد الداخلى ينتظرون أميركا كي تأتى وتستلم البلاد - فهذا حديث رجل الشارع اليوم ۔ میں نے کہا کہ یہ صرف لیبیا کی بات نہیں ہے بلکہ تقریبا تمام مسلم ملکوں کا معاملہ یہی ہے۔ ہر جگہ یہی صورتحال ہے کہ اگر کسی طرح امریکہ ان ملکوں پر قابض ہو جائے تو ہر ملک کے عوام خوش دلی کے ساتھ اس کو قبول کر لیں گے۔ اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ ہر مسلم ملک میں جس شخص کو موقع ملتا ہے وہ فورا اُپرواز کر کے امریکہ پہنچ جاتا ہے: هذه حالة كل البلد ان الاسلامية - والدليل على هذا اهوان كل من تو آتيه الفرصة فانه يستقل أول طائرة لكى يصل الى امريكا ۔ ۲۴ ستمبر کی شام کو میں ایک عرب نوجوان کے ساتھ قریب کے ایک پارک میں ٹہلنے کے لئے گیا۔ ہم لوگ ایک راستہ پر چل رہے تھے۔ اتنے میں دو سفید فام نوجوان ہمارے پاس سے گزرے ۔ ہم لوگوں کو دیکھ کر ان میں سے ایک شخص نے کہا: Nigger, Nigger, Black سفید فاموں کی خاص کمزوری نسل پرستی ہے۔ اپنے اس ذہن کی بنا پر وہ ایشیائی اور افریقی لوگوں کو بلیک (سیاہ) کہتے ہیں۔ مذکورہ جملہ تحقیر اور استہزا کے طور پر تھا۔ میں نے ایک ہندوستانی مسلمان سے کہا کہ آپ لوگ انگلینڈ میں آکر بسے ہوئے ہیں۔ اور وہ آپ کو بلیک کہتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ سب انگریز ایسے نہیں۔ انگریزیروں کی اقلیت ایسا کرتی ہے۔ میں نے کہا کہ انڈیا میں بھی ہندوؤں کی صرف اقلیت مسلم مخالف بات کرتی ہے نہ کہ سارے ہندو۔ پھر یہی اصول آپ انڈیا میں بھی کیوں اختیار نہیں کرتے۔ جس طرح یہاں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader