Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

ایک سفر

Urdu book, p. 655

By Maulana Wahiduddin Khan

تنبیہی ضرب ضروری ہے۔ ورنہ خاندان کا نظام چل نہیں سکتا۔ میں نے کہا کہ اس معاملہ میں اسلام کی عظیم مثبت دین یہ ہے کہ اس نے یہ تعلیم دی کہ عورت کی طرف سے نشوز (نافرمانی) کا مظاہرہ ہو تو ابتداً ہر قسم کی پرامن تدبیریں کرو۔ اگر پرامن تدبیروں سے اصلاح نہ ہو تو آخری مرحلہ میں انتہائی استثنائی تدبیر کے طور پر عورت کو مار سکتے ہو۔ مگر یہاں بھی اسلام نے اس کی حد مقرر کر دی ۔ اور وہ یہ کہ بس مسواک یا ٹوٹھ برش جیسی چیز سے مارنا۔ یعنی علامتی مار نہ کہ حقیقی مار۔ آج ستمبر ۱۹۹۳ء کی ۷، ۲ تاریخ ہے۔ مجھ کو دہلی سے نکلے ہوئے دس دن ہو چکے ہیں۔ امت کی موجودہ حالت اور قیامت کی ہولناکی کو یاد کر کے دل کا عجیب حال ہوا۔ میں نے سوچا کہ حشر کے میدان میں جب لوگ گروہ در گروہ جمع ہوں گے تو کوئی شخص ہوگا جو ستم دین کے گروہ کا جھنڈا لے کر آئے گا۔ کوئی منافقین کا سردار بن کر چل رہا ہوگا۔ اسی طرح کوئی وہاں منحرفین کا گروہ ہوگا، کوئی محرفین کا گروہ اور کوئی مستغلین کا گروہ۔ میں نے کہا کہ خدا یا، مجھے عاجزین کے ساتھ اٹھائیے ۔ حشر کے دن میں عاجزین کے گروہ کے پیچھے اس احساس کے ساتھ چل رہا ہوں کہ شاید میرے عجز پر خدا کو رحم آ جائے اور وہ مجھے بخش دے۔ اس سفر کے دوران یورپ کے دو ملکوں (اٹلی اور انگلینڈ) کو دیکھنے کا مجھے موقع ملا۔ میرا احساس یہ ہے کہ انگریزوں کی نفسیات برتری کی نفسیات ہے، اور اطالیولیوں کی نفسیات مقابلہ تواضع کی نفسیات۔ سچائی کو قبول کرنے کے لئے برتری کی نفسیات ہمیشہ رکاوٹ بنتی ہے اور تواضع کی نفسیات ہمیشہ مددگار ہوتی ہے۔ نو آبادیاتی دور کے خاتمہ کے بعد مسلمان بہت بڑی تعداد میں انگلستان میں آئے۔ کیوں کہ یہاں ان کو مادی نفع کے مواقع زیادہ دکھائی دئے۔ اگر ان مسلمانوں کی نظر دعوتی مواقع پر ہوتی تو شاید وہ سب سے زیادہ اٹلی کے شہروں میں جاتے ۔ ایک مجلس میں ایک صاحب نے قاہرہ کی چھپی ہوئی ایک کتاب دی۔ اس کا نام تھا : تصفیۃ الوجود الا اسلامی (عبد الرحمن عبد الوہاب) کھول کر مختلف مقامات پر اسے دیکھا تو کتاب جہاد کے نام پر سیف وقتال کی باتوں سے بھری ہوئی تھی۔ اس میں بتایا گیا تھا کہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page