ایک سفر
Urdu book, p. 656
By Maulana Wahiduddin Khan
اسلام کی تاریخ صرف تلواروں نے بنائی ہے، اسلام کی تاریخ صرف جنگ نے بنائی ہے۔ (ان تاريخنا لم تصنعه الا السيوف، ان تاريخنا لم يصنعه الا القتال)، صفحه ۴۶ میں نے کہا کہ یہ بات لغویت کی حد تک غلط ہے۔ میں نے اسلامی تاریخ کے کچھ واقعات بیان کرنے کے بعد کہا کہ کیسی عجیب بات ہے کہ آرنلڈ اور کیتھ جیسے مسیحی تو یہ کہہ رہے کہ اسلام کی تاریخ اس کی نظریاتی طاقت کے ذریعہ بنی اور مسلم دانشور یہ کہہ رہے کہ اسلام کی تاریخ تلوار کی طاقت نے بنائی ہے۔ یہ سن کر حاضرین میں سے ایک عرب نوجوان نے کہا: فكأن المسحيين يعظمون الاسلام والقادة المسلمون يصغرون الاسلام (عادل محمد الريانی) ۲۴ ستمبر کی شام کو ایک عرب نوجوان نے سوال کیا کہ رسول اللہ ﷺ کے بعد، ہمیں دنیا میں انذار و تبشیر والا دعوتی کام نظر نہیں آتا۔ پھر بعد کی غیر مسلم قوموں کا انجام کیا ہوگا۔ اس سلسلہ میں میرے جواب کا خلاصہ یہ تھا : السؤال يرجع الى علماء هذه الامة- لان الداعي اذا لم يقم بعمله فسوف يكون هو المسئول دون المدعو۔ فسوف تسئل عن علماء الامة الذين عاصرو الامم- لم انتم فشلتم وما استطعتم ان تقومو للشهادة امام الامم۔ فلعل الامم سوف توقف يوم القيامة فى قاعة الانتظار والعلماء سوف يجدون انفسهم فى قاعة الاستجواب۔ اٹھارویں صدی میں ہندوستان کے لوگ خاص طور پر مسلمان، انگریزوں کو صرف ظالم اور لٹییرے کے روپ میں دیکھ رہے تھے۔ ان کو معلوم نہ تھا کہ اس وقت انگریز نیہ قوم کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ تھی کہ وہ جہالت کی تاریکی سے نکل کر ایک علم دوست قوم بنے ہوئے تھے۔ آج بھی یہ حال ہے کہ یہاں کے بہت سے لوگ ۸۰ سال کی عمر میں بھی نئی معلومات حاصل کرنے کے شوق میں ایوننگ کلاس میں داخلہ لے لیتے ہیں۔ ۱۸۵۷ میں ہندوستان میں انگریزوں کے خلاف بغاوت منظم کی گئی۔ عین اسی سال یہاں کی قدیم برٹش لائبریری میں مشہور راؤنڈ ریڈنگ روم (round reading room) بن کر تیار ہوا تھا جس میں ڈکنس، لینن، مارکس، ٹھیکرے، اشا، ہارڈی جیسے نامور لوگوں نے بیٹھ کر مطالعہ کیا۔ برطانیہ کے شہروں میں بے شمار تعداد میں پبلک اور پرائیویٹ لائبریریاں قائم ہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader