Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

ایک سفر

Urdu book, p. 659

By Maulana Wahiduddin Khan

بات ہے۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ میں اپنے آپ کو اتنا زیادہ عاجز سمجھتا ہوں کہ مجھے اپنا وجود بالکل بے معنی نظر آتا ہے۔ شعر و شاعری مجھے پسند نہیں۔ مگر اپنی تنہائیوں میں اکثر فارسی کا یہ شعر میری زبان پر آجاتا ہے: نہ گلے نہ برگ سبزے نہ ثمر نہ سایہ دارم در حیرتم کہ دہقاں بچہ کار کشت مرا برمنگھم کے اردو ماہنامہ "صراط مستقیم" کے شمارہ جولائی، اگست، ستمبر 1993 میں ایک رپورٹ دیکھی۔ یہ برطانیہ میں مقیم مسلمانوں کے بارے میں تھی۔ اس رپورٹ کا ایک حصہ یہ تھا: یہاں شادیوں کے لئے بڑے بڑے ہال بک کرائے جاتے ہیں، چھ ماہ پہلے ہی بک کرانے کے لئے تگ و دو شروع ہو جاتی ہے۔ شادی کے دن عورتیں، بڑے زرق برق لباس پہن کر آتی ہیں۔ آدمی خوب اپنی عورتوں، بہنوں اور بچیوں کو ہار سنگار کراکہ میک اپ لگا کر لاتے ہیں، جیسے تھیں کسی منڈی میں لے جارہے ہیں۔ نوجوان لڑکے اور لڑکیاں خوب بن ٹھن کر آتے ہیں۔ مختلف ٹولیوں میں ایک دوسرے کی تصاویر کھینچتے ہیں اور مختلف پوز بناتے ہیں۔ ویڈیو فلمیں بھی خوب بنائی جاتی ہیں۔ جہاں نوجوان فیشن پرست لڑکیاں دیکھیں ان پر کیمرے خوب چلتے ہیں۔ کہا یہ جاتا ہے کہ یاد کے لئے رکھتے ہیں۔ حقیقت میں بے حیائی اور بے غیرتی کو تحفظ دینا مقصود ہوتا ہے۔ گھر کے اندر نوجوان بیٹھ کر شادی کی فلمیں دیکھتے ہیں، پھر لڑکیوں کو پسند کرتے ہیں، ان سے تعلقات بڑھانے کی کوشش کرتے ہیں۔" برمنگھم میں ان دنوں کافی سردی تھی۔ یہاں کے موسم کے مطابق اکثر ہلکی بارش ہوتی رہتی تھی۔ رات کو میں اپنے بستر پر لیٹا تو جناب شمشاد محمد خاں صاحب نے گرم پانی کی تھیلی (Hotwater bottle) لاکر دی اور کہا کہ اس کو بستر میں رکھ لیں۔ پہلے میں نے خیال کیا تھا کہ شاید موجودہ لحاف کے ساتھ مجھے ایک کمبل کا اضافہ کرنا پڑے۔ لیکن گرم پانی کی تھیلی بالکل کافی ہو گئی اور بستر اچھی طرح گرم ہو گیا۔ یہ طریقہ مجھے معلوم نہ تھا۔ مگر اس تجربہ کے بعد معلوم ہوا کہ یہ سخت سردیوں میں بستر کو گرم کرنے کا نہایت آسان اور سستا طریقہ ہے۔ کشمیر کے لوگ رات کو بستر میں کا نگڑی رکھتے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ گرم پانی کی تھیلی اس کے مقابلہ میں زیادہ مفید ہے اور بے ضرر بھی۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page