Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

ایک سفر

Urdu book, p. 658

By Maulana Wahiduddin Khan

۲۸ ستمبر کو وگن سے برمنگھم کے لئے روانگی ہوئی۔ دوپہر کے وقت جب ہماری گاڑی برمنگھم میں داخل ہوئی تو سڑک کے عین کنارے مسجد کا منظر دکھائی دیا۔ ساتھیوں نے بتایا کہ یہ یہاں کی گرینڈ مسک ہے۔ اس کو دیکھ کر بہت خوشی ہوئی۔ اس کے بیرونی سمت میں لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ لکھا ہوا دکھائی دے رہا تھا۔ دوسری طرف جلی حروف میں انگریزی میں یہ الفاظ لکھے ہوئے تھے: قرآن پڑھئے، آخری عہد نامہ: Read AL-QURAN THE LAST TESTAMENT برمنگھم میں میرا قیام جناب شمشاد خاں صاحب کے یہاں تھا۔ وہ مکمل طور پر دعوتی مزاج کے آدمی ہیں۔ اپنی پوری زندگی دعوت و ورگ کے لئے وقف کئے ہوئے ہیں۔ ہر جگہ وہ دعوت کے کام کا موقع نکال لیتے ہیں۔ برمنگھم میں وہ اپنا نیا مکان بنوارہے تھے۔ مختلف قسم کے کاریگر اس میں لگے ہوئے تھے جو سب کے سب مسیحی تھے۔ ایک روز انھوں نے ان مسیحی کاریگروں سے کہا: دیکھو، تمہاری کلر جی نے تم کو کیسا بیوقوف بنا رکھا ہے۔ اس براہ راست جملہ پر وہ لوگ چونکے۔ انھوں نے کہا کہ وہ کیسے ۔ شمشاد خاں صاحب نے کہا کہ یہ بتاؤ کہ اگر میں ایک قتل کروں اور اس کی سزا تم کو دی جائے تو کیا یہ انصاف کی بات ہوگی۔ انھوں نے جواب دیا کہ ہرگز نہیں۔ شمشاد خاں صاحب نے کہا کہ پھر دیکھو، تمہاری کلر جی کا کہنا ہے کہ مسیح کو گناہ کے کفارہ کے لئے صلیب پر چڑھایا گیا۔ یعنی گناہ تو دوسرے انسانوں نے کیا اور اس کی سزا حضرت مسیح کے اوپر ڈال دی گئی۔ کیا یہ انصاف ہے اور کیا ایسا کہہ کر کلر جی تم کو بے وقوف نہیں بنا رہے ہیں۔ ان لوگوں نے فورا کہا: مسٹر خاں، آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں (Mr. Khan, you are right.) چند سو سال پہلے مذہبی موضوعات پر اس طرح آزادانہ گفتگو نہیں ہو سکتی تھی۔ یہ جدید فکری انقلاب کا کرشمہ ہے جس نے اس طرح آزادانہ انداز میں مذہب پر تبادلہ خیال کا موقع دے دیا۔ مگر موجودہ زمانہ میں مسلمانوں نے ساری دنیا میں قومی جھگڑوں کی جو سیاست چلا رکھی ہے وہ اس فضا کو درہم برہم کر رہی ہے۔ برمنگھم کی ایک مجلس میں میں نے کہا کہ کچھ لوگ میرے بارہ میں یہ پروپیگنڈہ کر رہے ہیں کہ میرے اندر بڑائی کا احساس ہے۔ میں اپنے آپ کو بہت قابل سمجھتا ہوں۔ حالاں کہ یہ سراسر الٹی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page