ایک سفر
Urdu book, p. 663
By Maulana Wahiduddin Khan
ویڈیو ٹیپ میں نے دیکھا۔ اس کے مطابق، مجلس میں انھوں نے کہا کہ کافروں کے ساتھ ہمارا تعلق صرف قتل اور جنگ کا ہے۔ ایک مسیحی نے کھڑے ہو کر کہا کہ یا شیخ، آپ کیوں صرف قتال کی آیتیں قرآن سے لیتے ہیں اور عفو اور نرمی اور محبت کی آیتوں کو چھوڑ دیتے ہیں۔ شیخ عمر عبد الرحمن تردید میں پڑ گئے اور کہا کہ کافروں کے ساتھ معاملہ کے لئے ہمارا طریقہ یہی ہے : قال الشيخ عمر عبد الرحمن: علاقاتنا مع الكافرين وغيرهم اساليب العنف - فقام رجل مسيحي وقال يا شيخ انا ممن تعدونهم كافرين ولكن يا شيخ، لما تذهب الى آيات القتال و تعرض عن آيات العفو والتسامح والحب - فارتبك الشيخ وقال. ھذا منهجنا في التعامل مع الكافرين۔ ایک مجلس میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے میں نے کہا کہ موجودہ زمانہ کے تمام مسلم دانشور اس اعلان میں مشغول ہیں کہ موجودہ زمانہ ایک اسلام دشمن زمانہ ہے۔ امریکہ اسلام کا دشمن نمبر ایک ہے، اسی لئے وہ اسرائیل کی سرپرستی کر رہا ہے۔ برطانیہ اسلام کا پشتینی دشمن ہے ، اسی لئے وہ سلمان رشدی کو پناہ دئیے ہوئے ہے۔ مگر عین اسی وقت مسلمان بہت بڑی تعداد میں ان ملکوں میں آکر آرام کے ساتھ رہ رہے ہیں۔ چنانچہ امریکہ میں چھ ملین سلمان آباد ہیں اور برطانیہ میں دو ملین مسلمان۔ ذاتی معاملہ اور ملی معاملہ میں یہ فرق کیوں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ سلمان اپنی ذات کے لئے مواقع کو دیکھتے ہیں اور اسلام کے لئے مسائل کو۔ ذات کے معاملہ میں وہ مسائل کو نظر انداز کرواور مواقع کو استعمال کرو کی پالیسی کو اختیار کئے ہوئے ہیں اور جب اسلام کا معاملہ ہو تو فوراً مسائل کو لے کر دوڑنا شروع کر دیتے ہیں۔ اپنی ذات کے معاملہ میں وہ مسٹر نو پر اہلم بنے ہوئے ہیں اور اسلام کا معاملہ ہو تو وہ فوراً منسٹر پر اہلم بن جاتے ہیں۔ مسلمانوں کا یہی تضاد موجودہ زمانہ میں تمام ملی مصیبتوں کا اصل سبب ہے۔ ذات کے معاملہ میں انھوں نے فطرت کے اصول کو اختیار کیا اس لئے ذات کے معاملہ میں وہ کامیاب ہیں۔ اسلام کے معاملہ میں وہ فطرت کے اصول کو اختیار نہ کر سکے اس لئے انفرادی ترقی کے باوجود بحیثیت ملت انھیں ترقی حاصل نہ ہو سکی۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader