Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

ایک سفر

Urdu book, p. 664

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک مجلس میں میں نے کہا کہ قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جب بنو آدم کو زمین پر بسانے کا ارادہ کیا تو فرشتوں نے کہا : (اتجعل فيها من يفسد فيها ويسفك الدماء ونحن نسبح بحمدك ونقدس لك)۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ انسان کو آزاد مخلوق کی حیثیت سے زمین پر بسایا جانے والا تھا۔ اور فرشتے جانتے تھے کہ آزاد مخلوق لازماً اپنی آزادی کا غلط استعمال کرے گی اور زمین پر فساد برپا کرے گی۔ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کے اس شبہہ کی تردید نہیں کی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ فرشتوں کا شبہہ درست تھا اور بعد کی تاریخ میں وہ عملی طور پر درست ثابت ہو گیا۔ اس کے باوجود اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کی اس بات کو قبول نہیں کیا کہ (نحن نسبح بحمدک و نقدس لك)۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ فرشتے اضطراری حامد اور اضطراری مسح تھے۔ اب خدا کو ایسی مخلوق درکار تھی جو اختیاری حامد اور اختیاری مسح ہو۔ پوری تاریخ اگر فسادیوں سے بھر جائے اور صرف تھوڑے سے مطلوب انسان مل سکیں تب بھی وہ اس مقابل تھا کہ تاریخ بشری کا یہ عظیم ہنگامہ وجود میں لایا جائے۔ برطانیہ میں مسلمانوں کی تعداد تقریباً دو ملین ہے۔ ان میں سے زیادہ تر پاکستان ، انڈیا ، بنگلہ دیش سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس کے بعد ترک اور عرب ہیں۔ تقریباً دس ہزار وہ انگریز ہیں ، جنھوں نے اپنے آبائی دین کو چھوڑ کر اسلام قبول کر لیا۔ ۳۵ سال پہلے برطانیہ میں صرف دس مسجدیں تھیں ۔ مگر آج یہاں ۴۱۵ مسجدیں موجود ہیں۔ برطانیہ کی پہلی مسجد رو کنگ میں ۱۸۹۰ میں بنائی گئی تھی۔ لندن کی پہلی مسجد غا باغام ۱۹۳۱ میں بنی۔ اس کے علاوہ پورے برطانیہ میں ۲۰۰ کی تعداد میں اسلامی مرکز قائم کئے جا چکے ہیں ۔ حتیٰ کہ یہاں روایتی انداز کا دار العلوم بھی قائم ہے ۔ جس میں طلبہ کی تعداد ۳۵۰ ہے۔ مجموعی طور پر برطانیہ میں ایک درجن کی تعداد میں بڑے مدرسے قائم ہو چکے ہیں۔ لندن کا مرکز سب سے بڑا اسلامی مرکز ہے ، یہاں مختلف قسم کی اسلامی سرگرمیاں سال بھر جاری رہتی ہیں۔ اس کی لائبریری میں دس ہزار سے زیادہ کتا بیں ہیں۔ اس کے مطالعہ کے ہال میں بیک وقت ایک ہزار آدمی بیٹھ کر مطالعہ کر سکتے ہیں۔ ایک اندازہ کے مطابق ، ہر سال تقریباً ۲۰ ہزار انگریز طلبہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page