Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

ایک سفر

Urdu book, p. 667

By Maulana Wahiduddin Khan

صابن کے کاغذی ڈبہ پر عربی اور فرینچ اور انگریش میں الرجاء الانتباہ کے تحت لکھا ہوا تھا کہ اکثر صابن کا ٹک سوڈا اور حیوانی چربی کے ذریعہ بنائے جاتے ہیں۔ مگر عنبر صابن حلال اسلامی صابن ہے جو خالص نباتی تیل کے ذریعہ بنایا گیا ہے۔ اس کے انگریزی الفاظ کسی قدر فرق کے ساتھ یہ تھے: Most soaps are produced by using caustic soda and animal fat. Animal fat is not desirable due to religious objections. Amber Soap is specially for molated using pure vegetable oil to satisfy the religious objections and contains no animal fat. یہ گویا صابن کا اسلامائزیشن تھا۔ یہ اسلامی صابن ایک برٹش فرم نے بنایا ہے۔ میں نے سوچا کہ اگر ہم یہ واضح کر سکیں کہ اسلامی اصول تمہارے لئے مفید اصول ہیں تو دنیا تمام تعصبات کو چھوڑ کر اسلامی اصول کو اختیار کرلے گی۔ جو لوگ مغربی ملکوں میں ہیں وہ مسلم ملکوں کے مقابلہ میں اپنے بچوں کے دین کے لئے زیادہ چوکنار ہتے ہیں۔ شمشاد صاحب کے گھر میں ایک بار میں حمام سے نکل کر اپنے کمرہ کی طرف چلا تو دوسرے کمرے سے آواز آئی۔ مسز شمشاد اپنے صاحبزادے سے کہہ رہی تھیں: جھوٹ بولنے سے کیا ملا، گناہ ملا نہ، لکھ گیا اوپر۔ برمنگھم کی ایک تقریر کے بعد ایک صاحب نے سوال کیا کہ مغربی ملکوں میں ہمارے بچے یہاں کے کلچر سے بہت تیزی سے متاثر ہو رہے ہیں۔ اس سے حفاظت کے لئے ہمیں کیا کرنا چاہئے۔ میں نے مذکورہ واقعہ بتاتے ہوئے کہا کہ یہی ماحول ہر گھر میں پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر آپ بچہ کے دل میں بچپن سے یہ ڈال دیں کہ تمہارا قول و فعل اوپر لکھا جا رہا ہے تو وہ ساری زندگی کے لئے اس کا چیک بن جائے گا۔ میں نے کہا کہ اس معاملہ میں ہم کو حقیقت پسند بننا چاہئے۔ مثلاً اگر آپ یہ مطالبہ لے کر اٹھیں کہ ہمیں سی این این اور بی بی سی کو اسلامائز کرنا ہے تو بظاہر وہ بہت شاندار معلوم ہوتا ہے۔ مگر ایسا مطالبہ کبھی پورا ہونے والا نہیں۔ اس لئے ہمیں وہ کرنا ہے جو ممکن ہے اور ہمارے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page