Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

ایک سفر

Urdu book, p. 668

By Maulana Wahiduddin Khan

بس میں ہے۔ اور ممکن اور بس کی چیز یہی ہے کہ ہر گھر کو تربیت گاہ اور دینی مدرسہ بنا دیا جائے۔ ایک عراقی تاجر ابراہیم تہماس نے ایک بڑی عجیب بات کہی۔ انھوں نے کہا کہ حدیث جبرئیل میں قرب قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی یہ بتائی گئی ہے کہ لونڈی اپنا آقا جنے گی(وان تلد الامة ربها)، اس پر سوچتے ہوئے میری سمجھ میں آیا کہ اس سے مراد غالبًا (surrogate mother) کا ظاہر ہے جو موجودہ زمانہ میں وجود میں آیا ہے۔ جدید مغربی سماج میں دولت مند خاندان کی عورتیں جو بچہ کے حمل کی مصیبت اٹھانا نہیں چاہتیں اور اسی کے ساتھ یہ چاہتی ہیں کہ ان کے پیٹ کی شبیب خراب نہ ہو وہ اس قسم کی تدبیر اختیار کر رہی ہیں۔ خاص طور پر امریکہ میں اس کا رواج دولت مند لوگوں کے یہاں بڑھ رہا ہے۔ اس طریقہ میں یہ کیا جاتا ہے کہ مرد کا اسپرم اور عورت کا ایگ لے کر لیبوٹری میں فرٹائل کیا جاتا ہے۔ پھر اس کو عورت کے رحم womb میں ڈال دیا جاتا ہے۔ اس طرح وہ عورت کے رحم میں پرورش پا کر اپنے وقت پر پیدا ہو جاتا ہے۔ دولت مند عورتیں اپنی ملازمہ عورت سے یا کسی غریب عورت کو کچھ رقم دے کر ایسا کرتی ہیں۔ اس تشریح کی صورت میں مذکورہ حدیث بالکل لفظی طور پر صادق آتی ہے۔ کیوں کہ اس میں ماں کی حیثیت فی الواقع لونڈی کی ہوتی ہے اور اس کے پیٹ سے جو بچہ نکلتا ہے وہ فی الواقع اس کا آقا ہوتا ہے۔ ۲۰ سال پہلے تک سروگیٹ مدر کا تصور موجود نہ تھا۔ ایسی حالت میں ۴؍ سوسال پہلے عرب کے ایک شخص کی زبان سے یہ جملہ نکلنا اس کا قطعی نبوت ہے کہ وہ شخص خدا کا پیغمبر تھا۔ اس کے سوا اس کی کوئی اور توجیہ نہیں کی جا سکتی۔ یہاں کے ایک شخص مسٹر فریڈ نے جناب شمشاد خاں صاحب سے سوال کیا کہ برٹرینڈ رسل نے لکھا ہے کہ گناہ کرنا اگر گناہ ہے تو گناہ کی بات سوچنا بھی گناہ ہے۔ خدا جب کہتا ہے کہ فلاں کام گناہ ہے اس کو مت کرو تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس نے خود بھی گناہ کیا۔ کیوں کہ گناہ کا خیال ذہن میں لائے بغیر گناہ نہیں کیا جا سکتا۔ شمشاد خاں صاحب نے جواب دیا کہ ایک مینوفیکچرر ایک سامان بناتا ہے اور اس کے ساتھ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page