Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

ایک سفر

Urdu book, p. 669

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک گائڈ بک رکھ دیتا ہے کہ اس سامان کو اس طرح استعمال کرو اگر اس کے خلاف کرو گے تو سامان خراب ہو جائے گا۔ ایسی حالت میں کیا مینو فیکچرر مجرم ہے۔ نہیں۔ کیوں کہ مینو فیکچرر نے جو کچھ کیا تمہارے فائدے کے لئے کیا۔ ایسی گائڈ دینے کی بنا پر خود اس کو جرم میں شریک نہیں قرار دیا جا سکتا۔ اس مثال سے تم خدا کے معاملے کو سمجھ سکتے ہو۔ خدا نے جب انسان کو بنایا تو انسان کے لئے جو مفید ترین ہدایات تھیں وہ بھی اس کو پیغمبروں کے ذریعہ بتا دیں۔ پھر جب تم مینو فیکچرر کو ہدایت نامہ دینے کی بنا پر مجرم نہیں مانتے تو خدا کو ہدایت نامہ دینے کی بنا پر کیوں ایسا کہہ رہے ہو۔ شمشاد خاں صاحب کے اندر دعوہ ورک کا جذبہ بہت زیادہ ہے۔ ان کا اگرچہ مستقل بزنس ہے مگر ان کی دل چسپی سب سے زیادہ دعوت کے کام سے ہے۔ انھوں نے اس مقصد کے لئے ایک خوب صورت مرکز (اسلامک پروپیگیشن سنٹر) برمنگھم میں قائم کیا ہے۔ ان کے ذریعہ اب تک تقریباً ۵۰۰ لوگ اسلام قبول کر چکے ہیں۔ وہ ایک زبر دست کام کر رہے ہیں جس کا نام ہے: گھر گھر اسلام کا تعارف نامہ پہنچانا : door to door leaflet drop گویا کہ یہ وہ کام ہے جس کو حدیث میں ادخال کلمہ کہا گیا ہے۔ اس سلسلہ میں وہ انگریزی الرسالہ کی بھی مختلف چیزیں پھیلاتے رہتے ہیں۔ مثلاً انگریزی الرسالہ (مارچ ۱۹۹۳) میں تین صفحہ کا وہ مضمون جس کا عنوان تھا : From denial to belief دعوتی کام کے سلسلہ میں انھوں نے کئی عجیب قصے بتائے۔ مثلاً ایک انگریز جس کا قدیم نام ڈیو ڈمورس Dawid Morris تھا۔ ان سے شمشاد خاں صاحب کا ربط قائم ہوا۔ ایک عرصہ تک گفت گو اور مطالعہ کے بعد انھوں نے اسلام قبول کر لیا۔ اب نام کا مسئلہ تھا۔ شمشاد خاں صاحب نے کہا کہ نام بدلنا کوئی ضروری نہیں ہے۔ مگر انھوں نے کہا کہ نہیں۔ میں ہیپو کریٹ (منافق) بن کر رہنا نہیں چاہتا۔ اسلام قبول کرنے کے بعد مجھے اپنا نام بھی بدلنا ہے۔ اس کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page