Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

ایک سفر

Urdu book, p. 680

By Maulana Wahiduddin Khan

۲ اکتوبر کی دوپہر کو یہاں احمد دیدات صاحب کا ایک ویڈیو کیسٹ دیکھا۔ اس سے پہلے عرب امارات میں ایک بار ان کی تقریر سن چکا ہوں۔ آج جو کیسٹ دیکھا وہ لندن کے البرٹ ہال کی تقریر تھی۔ اس کا عنوان تھا: How Rushdie fooled the West. اس تقریر کا خلاصہ یہ تھا کہ سلمان رشدی نے اپنی کتاب شیطانی آیات میں صرف اسلام کے ساتھ بے ہودگی نہیں کی ہے بلکہ خود مغرب کے ساتھ بھی بے ہودگی کی ہے جس نے اس کو انعام دیا اور جو اس کو پناہ دئے ہوئے ہیں۔ دیدات صاحب نے کہا کہ آپ خود کیوں اس کا کیس اپنے ہاتھ میں لئے ہوئے ہیں۔ آپ تو مغرب کو رشدی کے سیاہ کارنامے بتائیے اور پھر ان کو اس سے نمٹنے دیجئے: and let them do the job مجھے یہ بات پسند آئی۔ ایک ایسا مسئلہ جو دوسروں کے ذریعہ زیادہ بہتر طور پر حل کیا جاسکتا ہو اس کو اپنے ہاتھ میں لینا کوئی عقلمندی نہیں۔ اس قسم کا غیر ضروری فعل وہ ہی لوگ کر سکتے ہیں جو سوچے بغیر کوئی کام کریں۔ جن کے اعمال کا سرچشمہ ان کے جذبات ہوں نہ کہ ان کی عقل۔ عبد اللہ یوسف علی کا انگریزی ترجمہ جو سعودی عرب کی طرف سے بہت بڑی تعداد میں چھاپ کر پھیلایا گیا ہے۔ اس میں بہت سے اجزا، حذف کر دئے گئے ہیں۔ برمنگھم میں مجھ کو ابتدائی نسخہ ملا۔ اس کو میں نے مختلف مقامات سے دیکھا۔ مجھے اس کے تفسیری حواشی بہت پسند ہیں۔ اس میں عبد اللہ یوسف علی کا ابتدائی دیباچہ (preface) شامل ہے۔ اس پر ۷ اپریل ۱۹۳۴ء کی تاریخ درج ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ترجمہ اور تفسیر ان کے چالیس سالہ مطالعہ اور تفکیر کا نتیجہ تھا۔ انھوں نے نہایت سخت حالات میں اس کو لندن میں مکمل کیا اور آنسوؤں کے ساتھ اس کو لکھا۔ چنانچہ دیباچہ میں یہ الفاظ ہیں کہ اس کے مسودات آنسوؤں سے سینچے گئے: ...watered by tears.

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page