ایک سفر
Urdu book, p. 681
By Maulana Wahiduddin Khan
اس دیباچہ میں انھوں نے قرآن کی بابت کئی باتیں لکھی ہیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ قرآن ہماری روحانی آنکھوں کو کھولتا ہے: The Qur'an opens our spiritual eyes. یہ قرآن کی نہایت عمدہ تشریح ہے۔ قرآن کا اصل مقصد انسان کی روحانی بصیرت کو زندہ کرنا ہے۔ قرآن کے مطالعہ سے جس کی روحانی بصیرت زندہ ہو جائے وہی دراصل قرآن کا قاری ہے۔ ۲ اکتوبر کی شام کو نماز مغرب کے بعد برمنگھم کے مسلم کمیونٹی سنٹر اور جمعیۃ اہل حدیث مرکز (Green Lane) میں خطاب کا پروگرام تھا۔ میں نے کہا کہ سلطان ٹیپو ۹۹۷ء میں انگریزوں سے لڑ کر شہید ہو گئے۔ اس وقت سے لے کر آج تک مسلمان ساری دنیا میں اپنے مفروضہ دشمنوں سے لڑ رہے ہیں۔ مگر اس دو سو سالہ جنگ نے مسلمانوں کو تباہی کے سوا کچھ اور نہیں دیا۔ مسلمان آخر اس بے فائدہ لڑائی میں کیوں مشغول ہیں۔ اس کی وجہ ہمارے رہنماؤں کی ثنائی طرزِ فکر (dichotomous thinking) ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ یہاں ان کے لئے دو ہی ممکن صورت ہے۔ سلطان ٹیپو کے الفاظ میں، یا تو شیر کی طرح لڑ کر مر جانا یا گییدڑ بن کر رہ رہنا۔ دوسرے لفظوں میں جنگ یا بزہ دلی۔ چوں کہ بز دل بن کر رہ رہنا انھیں پسند نہیں، اس لئے وہ بہادری کی موت مر رہے ہیں۔ مسلم رہنماؤں کو معلوم نہیں کہ یہاں ایک تیسرا انتخاب بھی ہے۔ اور وہ ہے ٹکراؤ کو اوائڈ کر کے تیاری کرنا۔ مسائل کو نظر انداز کرتے ہوئے امکانات کو استعمال کرنا۔ یہ گویا "تھرڈ آپشن ہے" اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی بتاتی ہے کہ اس طرح کے حالات میں آپ نے ہمیشہ اسی تھرڈ آپشن کو اختیار کیا۔ تقریر کے بعد ایک صاحب نے سوال کیا کہ آپ کہہ رہے ہیں کہ رسول اللہ کا طریقہ جنگ کا طریقہ نہیں تھا۔ حالاں کہ حدیث میں ہے کہ میرا جی چاہتا ہے کہ میں بار بار لڑوں اور بار بار شہید کیا جاؤں۔ میں نے کہا کہ مطالعہ کا یہ طریقہ صحیح نہیں۔ اسی کے ساتھ آپ یہ دیکھئے کہ رسول اللہ کو بار بار شہید ہونے کا موقع ملا۔ پھر کیوں آپ نے اس سے اعراض کیا۔ ابتدائی دور میں آپ مکہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader