Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

ایک سفر

Urdu book, p. 684

By Maulana Wahiduddin Khan

سے اس کا کوئی تعلق نہیں: Mind your own business. Its nothing to do with you. ماں باپ اس طرح کے جواب سنتے ہیں اور برداشت کرتے ہیں۔ کیوں کہ اگر وہ بچہ کے ساتھ سختی کریں تو بچہ کے ایک ٹیلیفون پر پولیس آئے گی اور ماں باپ کو پکڑ لے جائے گی۔ ۱۹ اگست کی صبح کو ناشتہ سے فراغت کے بعد ہم لوگ شہر دیکھنے کے لئے نکلے۔ سڑک پر آئے تو پہلا منظر یہ دکھائی دیا کہ ادھیڑ عمر کا ایک آدمی ایک بھیڑیا نما کتے کو اپنے ساتھ لئے ہوئے فٹ پاتھ پر چل رہا ہے۔ مغربی ملکوں میں کتا زندگی کا جزو بن گیا ہے۔ میں نے سوچا کہ یہ آدمی جس طرح ایک بھیڑیا نما کتے کو لے کر بے خوف چلا جا رہا ہے۔ کیا اسی طرح وہ کسی بھیڑ لیے کو لے کر بھی چل سکتا ہے۔ دل نے کہا کہ نہیں۔ اس کی وجہ دونوں کی فطرت کا فرق ہے۔ کتے کو خدا نے اپنے مالک کے لئے وفادار بنایا ہے جب کہ بھیڑیا صرف ایک خوں خوار جانور ہے۔ وہ ایک عام انسان کے لئے خو نخوار ہے اور مالک کے لئے بھی غیر وفادار۔ اس دنیا میں بھیڑیا بھی ایک قابل پیشین گوئی کر دار کا حامل ہے اور کتا بھی قابل پیشین گوئی کر دار کا حامل۔ المركز الاسلامی کے نام سے یہاں ایک سنٹر ہے جس کو عربوں نے قائم کیا ہے۔ ۱۹ اگست کو اسے دیکھا۔ یہاں ایک چھوٹی سی خوبصورت مسجد ہے۔ ۱۹ اگست کو یہاں دو رکعت نماز ادا کی اور حسب توفیق دعائیں کیں۔ یہ مسجد ایک ہشت پہل ہال میں بنائی گئی ہے۔ جمعہ کے نمبر کی جگہ لکڑی کی ایک چھوٹی سی کرسی رکھی ہوئی ہے۔ پوری مسجد میں قتـالین کی صفیں بچھھی ہوئی تھیں۔ اس مسجد کا نام مسجد الرحمن ہے۔ پورے اٹلی میں غالباً صرف دو مسجد ہے۔ ایک میلان کی موجودہ مسجد اور دوسرے روم کی مسجد جو حال میں تعمیر ہوئی ہے۔ اٹلی میں یہ سارا کام عربوں کے تعاون سے ہو رہا ہے۔ اس مسجد سے متصل ایک مرکز ہے۔ یہاں مسلم مرد اور مسلم عورتیں کثرت سے موجود تھیں معلوم ہوا کہ آج اطالوی مسلمانوں کا اجتماع ہے۔ اس قسم کا یہ پہلا اجتماع تھا۔ مرکز کے ڈائر کٹر الید عبد الفتاح

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page