ایک سفر
Urdu book, p. 685
By Maulana Wahiduddin Khan
مجھ کو جانتے تھے اور میری عربی کتابیں پڑھے ہوئے تھے۔ وہ اتفاق سے وہاں موجود تھے۔ انھوں نے دوپہر کے اجتماعی کھانے میں شریک کیا۔ اور اصرار کیا کہ اجتماع سے خطاب کروں۔ وقت بہت کم تھا کیوں کہ مجھ کو کانفرنس کے افتتاحی اجلاس میں بیٹھنا تھا۔ میں نے اسی وقت بیٹھ کر ایک فل اسکیپ کا کاغذ پر ایک عربی تقریر لکھی اس کے بعد اسٹیج پر آیا۔ ابتداًؤ کچھ کلمات انگریزی میں کہے اس کے بعد عربی میں لکھی ہوئی تقریر پیش کی۔ ایک عرب عالم نے فوری طور پر اس کا اطالوی زبان میں ترجمہ کیا۔ ایک ایشیائی نے اہل مغرب کے تعصب کی شکایت کرتے ہوئے کہا کہ یہاں کا میڈیا ویسٹرن فریم ورک کے سوا کسی اور ڈھنگ پر کسی بات کو بتانا جانتا ہی نہیں: There is a lot of reluctance in the media to explain anything outside the western framework. میں نے کہا کہ ایشیائی ملکوں میں کون سا ملک ہے جہاں یہ مزاج موجود نہیں ہے، ہندوستان والے ہندستانی نقطۂ نظر سے ہر چیز کو بیان کرتے ہیں۔ پاکستان والے پاکستانی نقطۂ نظر سے ہر معاملے کی تشریح کرتے ہیں۔ یہی تمام قوموں کا حال ہے۔ پھر اس کے لئے آپ اہل مغرب کی شکایت کیوں کر رہے ہیں۔ میرے ٹکٹ کا جور ریزولیشن تھا، اس میں اٹلی، انگلینڈ اور مالٹا شامل تھے۔ مگر درمیان سفر میں بعض وجوہ سے میلان میں مالٹا کو حذف کر کے مجھ کو نیا ٹکٹ بنوانا پڑا۔ اس طرح سفر مزید جاری نہ رہ سکا۔ "مالٹا" کا لفظ ہندوستان کی آزادی کی جدوجہد میں ایک تاریخی علامت کی حیثیت رکھتا ہے۔ ہندوستان میں انگریزوں کے خلاف آزادی کی باقاعدہ جدوجہد کو اگر سلطان ٹیپو سے مانا جائے تو وہ 1799ء میں شروع ہوئی جبکہ سلطان انگریزی فوج سے لڑتے ہوئے مارے گئے۔ اس کے بعد مسلسل یہ جنگ مسلح ٹکرمہ اؤ کی صورت میں جاری رہی۔ مولانا محمود حسن دیو بندی اس ناکام شمشیری جنگ کی آخری کڑی تھے۔ اسی کے جرم میں ان کو تقریبا ساڑھے تین سال تک مالٹا کے قلعہ میں قید کی زندگی گزارنا پڑا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader