Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

ایک سفر

Urdu book, p. 686

By Maulana Wahiduddin Khan

مالٹا سے رہا ہو کر وہ ۸ جون ۱۹۲۰ء کو دوبارہ بمبئی کے ساحل پر اترا رے۔ اس وقت مہاتما گاندھی ہندوستان کی سیاست میں داخل ہو چکے تھے۔ انھوں نے جد و جہد آزادی کے طریق کار میں انقلابی تبدیلی پیدا کرنے کے اس کو تشدد کے بجائے عدم تشدد کے اصول پر قائم کر دیا تھا۔ اس وقت کے مسلم رہ نماؤں نے اس تبدیلی کو قبول کر لیا۔ مولانا محمود حسن دیوبندی مولانا ابوالکلام آزاد، مولانا حسین احمد مدنی ، مولانا محمد علی جوہر اور دوسرے تمام لوگوں نے مہاتما گاندھی کی قیادت کو تسلیم کر لیا۔ اس طرح سوا سو سال کی نا کام قربانیوں کے بعد آزادی کی تحریک پر تشدد اصول کو ترک کر کے عدم تشدد کے اصول پر چلنے لگی اور آخر کار ۱۹۴۷ء میں کامیابی کے مرحلہ تک پہنچی۔ اسی قسم کا معاملہ آزادی کے بعد بھی مسلمانوں کے ساتھ پیش آیا ہے۔ ہندوستانی مسلمانوں کو یہ احساس ہوا کہ اس ملک میں وہ اکثریتی فرقہ کے تعصب اور زیادتی کا شکار ہو رہے ہیں۔ مسلم لیڈروں نے دوبارہ لفظی جنگ کی صورت میں ایک جوابی تحریک شروع کر دی۔ یہ مطالبہ ، احتجاج ، عوامی مظاہرہرہ کے اصول پر چلائی گئی۔ یہ پر شور جنگ پچاس سا لہ قربانیوں کے باوجود مکمل طور پر نا کام ہو گئی ہے۔ اس سے مسلمانوں کے نقصان میں اضافہ تو ہوا مگر اس سے مسلمانوں کو کچھ حاصل نہ ہو سکا۔ اب دوبارہ مسلم سیاست میں ایک تبدیلی کی ضرورت ہے۔ وہ یہ کہ مسلمان اپنی جد و جہد کو اصولِ احتجاج کے بجائے اصولِ تعمیر پر قائم کریں۔ اب وہ خارجی مطالبہ کے بجائے داخلی تعمیر پر محنت کریں۔ وہ مبنی بر غیر سیاست کو چھوڑ کر مبنی بر خویش سیاست کو اختیار کر لیں۔ لیبیا کے ایک صاحب کو میں نے گرمی لال جین کا یہ اقتباس دکھایا : اب ہمارے لئے کیا راستہ ہے۔ کیا ہم اپنی پرانی دنیا کی طرف واپس چلے جائیں، مانوس فراریت کی دنیا کی طرف یا ہم کٹر پن سے ٹکراؤ کی طرف بڑھیں ۔ یہ پہلا انتخاب نہیں جس کی ایک شخص تمنا کر سکتا ہے۔ اور تیسرا انتخاب افق پر موجود نہیں۔ آلایا کہ مایوسی کے عالم میں ہم یہ خیال کریں کہ آئندہ کبھی قد آفی کی ہوا نکل جائے اور لیبیا دنیا میں ایک نئے آغاز کا نقیب بن جائے :

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page