Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

ایک سفر

Urdu book, p. 688

By Maulana Wahiduddin Khan

روم میں میں نے ایک پادری سے یہ بات کہی۔ اس نے جواب دیا کہ ہاں، مگر پوپ نے یہ بھی کہا ہے کہ غیر شادی شدہ رہ کر ایک پادری زیادہ اچھی طرح اپنی خدمات انجام دے سکتا ہے۔ پادری کی ذمہ داری مجردہ کہ زیادہ بہتر طور پر ادا کی جاسکتی ہے: اس سفر میں کئی ایسے تجربے ہوئے جن کے درمیان محسوس ہوا کہ یورپ میں عربوں کے ساتھ آج وی آئی پی جیسا برتاؤ کیا جاتا ہے۔ اس پر مجھے ایک قصہ یاد آیا۔ مولانا شبلی نعمانی نے ۱۸۹۲ میں ترکی وغیرہ کا سفر کیا۔ اس سفر کی مفصل رو داد "سفر نامہ روم و مصر و شام" کے نام سے شائع ہو چکی ہے۔ بحری سفر کے ذریعہ وہ ۲۳ مئی ۱۸۹۲ کو قسطنطنیہ پہنچے اور وہاں تین مہینہ قیام کیا۔ ایک روز قسطنطنیہ کے مکتب حربیہ کے سکریٹری ذکی پاشا سے ملنے گئے۔ موصوف پہلے سے مولانا شبلی سے واقف نہ تھے۔ چنانچہ بوقت ملاقات ایک عجیب واقعہ گزرا جو مولانا شبلی کے الفاظ میں یہ تھا: اتفاق سے ذکی پاشا باہر جا چکے تھے۔ آدمی نے کہا کہ ذرا ٹھہر جائیے، شاید جلد آجائیں اسی اثنا میں وہ آپہنچے۔ گاڑی سے اترنے کے ساتھ انھوں نے ہماری طرف رخ کیا۔ شیخ علی طبیان اور میں دونوں عربی لباس میں تھے۔ اگرچہ میرے سر پر ریشمی عمامہ اور کمر میں سنہری پٹی تھی لیکن قفطان اور عباکی وجہ سے مجموعی صورت سے میں عرب معلوم ہوتا تھا۔ ذکی پاشا کو اس وقت نہایت جلدی تھی۔ سلام علیک کے ساتھ ہی جیب میں ہاتھ ڈالا اور کچھ مجیدیان ( ترکی سکہ) نکالیں ۔ پہلے تو مجھے سخت تعجب ہوا۔ پھر خیال آیا کہ نعوذ باللہ، انھوں نے ہم کو عام عربوں کی طرح گدا گر سمجھا۔ اس خیال کے ساتھ مجھ کو نہایت رنج اور رنج کے ساتھ غصہ آیا۔ میں نے چلا کر کہا: ما جئنا لهذا، لسنا من الفقراء (ہم اس لئے نہیں آئے، ہم محتاج نہیں ہیں) پاشا موصوف اگر چہ عربی نہیں سمجھتے تھے۔ لیکن چہرے کی ہیئت اور لہجہ کلام سے سمجھے کہ یہ امر اس کو ناگوار گزرا۔ شیخ علی طبیان کی طرف متوجہ ہوئے کہ یہ غنیظ میں کیوں ہیں۔ شیخ علی طبیان ٹوٹی پھوٹی ترکی بول لیتے تھے۔ میرے آنے کی غرض بیان کی۔ پاشا موصوف نہایت شرمندہ ہوئے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page