Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

ایک سفر

Urdu book, p. 689

By Maulana Wahiduddin Khan

اس واقعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ سو سال پہلے عربوں کی عام تصویر کیا تھی۔ غالباً ۱۴۱۹؁ کی بات ہے، اعظم گڑھ میں خود میرے یہاں اسی قسم کے ایک "عرب مسافر" آئے تھے اور ان کو میں نے ایک رات اور ایک دن اپنے مکان پر ٹھہرایا تھا۔ اور ان کی خدمت کی تھی۔ صبح کو جب میں ان کے کمرہ میں گیا اور پوچھا کہ رات کیسی گزری تو انہوں نے کہا: ما کان النوم معنا با لللیل۔ معلوم ہوا کہ مچھز کی وجہ سے وہ رات کو ٹھیک سے نہ سو سکے۔ مگر آج عربوں کی تصویر اس سے سراسر مختلف ہے۔ "عرب شیخ" کا لفظ اب دولت کا نشان بن چکا ہے اور اسی کے ساتھ عزت و احترام کا بھی۔ ۴ اکتوبر ۱۹۹۳؁ کو واپسی ہوئی۔ صبح کو فجر سے کچھ پہلے برمنگھم سے لندن کے لئے روانگی ہوئی۔ ہم کو لندن سے دہلی کے لئے جہاز لینا تھا۔ برمنگھم سے جناب شمشاد خاں صاحب کے ساتھ بذریعہ روڈ سفر کیا۔ راستہ میں ایک جگہ لکھا ہوا تھا۔ آگے فلاں سڑک پر ایکسیڈنٹ ہو گیا ہے۔ تاحد نظر کاریں کھڑی ہوئی دکھائی دیتی تھیں شمشاد خاں صاحب نے فوراً اپنی گاڑی موڑی اور نئے راستہ پر سفر کرتے ہوئے ائیرپورٹ پہنچے لندن ائیرپورٹ پر جناب شمشاد خاں صاحب سے رخصت ہو کر اندر داخل ہوا تو معلوم ہوا کہ ایئر انڈیا کی فلائٹ ۴ گھنٹہ لیٹ ہے۔ ہم کو ائیرپورٹ پر مزید انتظار کرنا ہوگا۔ پھر مجھے ترکی کے صدر کا قصہ یاد آیا۔ وہ امپورٹڈ کار میں بیٹھ کر گھر سے دفتر کے لئے روانہ ہوئے۔ راستہ میں معلوم ہوا کہ کار میں پٹرول ختم ہو گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ گاڑی تو ہم نے باہر سے خرید کر حاصل کر لی مگر پٹرول ڈالنا ہمارا کام تھا اور یہیں ہم فیل ہوگئے۔ یہی حال ایئر انڈیا کا ہے۔ جہاز تو ہم نے باہر سے خرید کر منگوالئے۔ مگر اس کو صحیح طور پر چلانے کے لئے ہمیں اپنا حصہ ادا کرنا تھا۔ یہاں ہم فیل ہوگئے۔ لندن ائیرپورٹ کی انتظار گاہ پر بیٹھا ہوا تھا۔ دیوار پر لگے ایک بورڈ پر نظر پڑی۔ برٹش ایئرویز کے چیف ایگزیکٹو سر جان ایگن کی دستخط سے یہ الفاظ لکھے ہوئے تھے اپنے ائیرپورٹ کی سروس پر ہم اس وقت تک مطمئن نہیں ہو سکتے جب تک آپ مطمئن نہ ہوں :

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page