ایک سفر
Urdu book, p. 6
By Maulana Wahiduddin Khan
یہ بتائیے کہ جہاز کیسے اُڑتا ہے ۔ انھوں نے اس کی کچھ تشریح کی۔ اس کے بعد کہا کہ جہاز کے اُڑنے کا اصول اگر چہ بے حد سادہ ہے مگر اس کو قطعی صورت میں صرف ریاضیاتی زبان میں بیان کیا جا سکتا ہے، غیر ریاضیاتی زبان میں اس کو قطعیت کے ساتھ بیان کرنا ممکن نہیں۔ یہی اصول دوسرے معاملات کے لئے بھی ہے۔ مثلاً قومی تعمیر یا اسلامی احیاء کے معاملہ کو بھی صحیح طور پر شعر وخطابت کی زبان میں یا چڑیا چڑنے کی کہانی کے طور پر بیان نہیں کیا جا سکتا۔ اس کو لازماً علمی زبان میں بیان کرنا پڑے گا۔ آجکل یہ حالت ہے کہ ملی تعمیر یا اسلامی احیاء کے کام کو اگر زیادہ گہرائی کے ساتھ بتایا جائے تو بعض لوگ کہنے لگتے ہیں کہ یہ تو فلسفہ ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ اس طرح کے ایک معاملہ کو صحیح طور پر " فلسفہ " ہی کی زبان میں بیان کیا جا سکتا ہے۔ جو لوگ اس کو فلسفہ کی زبان میں سمجھنا نہ چاہیں وہ ہمیشہ کے لئے اس کی حقیقی معرفت سے محروم رہیں گے۔ جہاز میں ایک رفیق سفر نے کہا کہ قرآن میں صرف دو سفروں کا ذکر ہے۔ خشکی کا اور سمندر کار و حملناهم فی البر والبحر ، مگر موجودہ زمانہ میں ہوا ئی سفر بھی ایک مستقل سفر بن گیا ہے۔ اس کا مطلب کیا یہ لیا جا سکتا ہے کہ قرآن " دو سفروں" کے دور کی کتاب ہے، وہ " تین سفروں " کے دور کی کتاب نہیں۔ میں نے کہا کہ موجودہ زمانہ میں سفر کی قسمیں تین ہی نہیں ہیں بلکہ اس سے زیادہ ہیں۔ مثلاً انڈر گراؤنڈ ریلیوں کا تخت زمین سفر، یار اکٹ کا بالائے خلا سفر ۔ اصل یہ ہے کہ یہ ایک عام اسلوب کلام ہے کہ ایک معروف چیز کا ذکر کر کے اس کے ذیل کی دوسری چیزوں کو چھوڑ دیا جاتا ہے، کیوں کہ وہ اس کے تابع ہونے کی بنا پر خود بخود سمجھ میں آ جاتی ہیں۔ مثلاً آپ کہیں کہ " جمہوری نظام میں حکمران کو اپوزیشن کی طرف سے بہت سی تلخ باتیں سننی پڑتی ہیں۔" اس فقرہ میں بظاہر صرف " سنے " کا ذکر ہے مگر تبعیت کے اصول کے تحت اس میں " پڑھنا " بھی اپنے آپ شامل ہے۔ یعنی اس کا مطلب یہ ہے کہ بہت سی تلخ سی تلخ باتیں سننا اور پڑھنا پڑتا ہے۔ یہی معاملہ قرآن کی مذکورہ آیت کا ہے۔ اس میں بظاہر اگر چہ صرف بر اور بحر میں سفر کا ذکر ہے مگر سفر کے ذیل کے دوسرے تابع مفہوم بھی اس میں اپنے آپ شامل ہیں۔ مثلاً بر کی تابعیت میں تحت زمین سفر، اور بحر کی تابعیت میں فوق زمین (ہوائی) اور خلائی سفر۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader