Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

ایک سفر

Urdu book, p. 7

By Maulana Wahiduddin Khan

اس سے پہلے ایک سفر کے دوران میں نے کراچی ائیر پورٹ کی مسجد میں نماز ادا کی تھی (الرسالہ مئی ۱۹۸۷ء صفحہ ۲۲) اس سفر میں دو بارہ کچھ وقت اس خوب صورت مسجد میں گزارنے کا اتفاق ہوا۔ اس مسجد کو دیکھ کر خیال ہوا کہ ائیر پورٹ کے اندر مسجد کا ہونا شاید اسی وقت ممکن ہے جب کہ وہ ائیر پورٹ کسی مسلم ملک میں واقع ہو۔ مگر پھر یاد آیا کہ اب زمانہ غیر معمولی طور پر بدل چکا ہے چنانچہ اب اٹلی اور اسپین جیسے ملکوں میں بھی شاندار مسجدیں بن رہی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے دنیا کے حالات میں ایسی تبدیلی کی ہے کہ اب خود سیکولر ملک محسوس کر رہے ہیں کہ مسجد" ان کے سیکولرزم پر دھبہ نہیں۔ بلکہ مسجد ان کی سیکولرزم کی قبا پر ایک تصدیقی تمغہ ہے۔ چنانچہ فرانس میں پاکستان کا واقعہ دہرایا جارہا ہے۔ فرانس کی راجدھانی پیرس میں اورلی ہوائی اڈہ (Orly International Airport) ہے۔ وہ دنیا کے ان ۲۴ بڑے ہوائی اڈوں میں شمار ہوتا ہے جہاں سالانہ ایک کروڑ سے زیادہ مسافر چڑھتے اور اترتے ہیں۔ تازہ خبر یہ ہے کہ اس فرانسیسی ہوائی اڈہ پر ایک مسجد بنائی گئی ہے تاکہ یہاں سے گزرنے والے مسلمان مسافروں کو عبادت گزاراری کی سہولت حاصل ہوسکے۔ کراچی ائیر پورٹ پر کئی گھنٹے انتظار میں گزرے۔ میں ایک سیٹ پر بیٹھا ہوا کچھ یادداشتیں نوٹ کرنے میں مشغول تھا۔ میرے پاس کی سیٹ پر ایک مسلمان لڑکی آکر بیٹھ گئی۔ کچھ دیر تک دیکھتے رہنے کے بعد وہ مجھے مخاطب کرتے ہوئے بولی۔ انکل، آپ شاعر ہیں۔“ میں نے سر ہلا کر نفی میں جواب دیا۔ میں نے اس سے مزید کچھ نہ کہا اور نہ کچھ پوچھا۔ تاہم میں سوچتا رہا کہ اس نے ایسا سوال کیوں کیا۔ اس کی وجہ غالب یہ تھی کہ لوگ لکھنے کے نام سے صرف تفریحی لکھنے کو جانتے ہیں، وہ سمجھ نہیں پاتے کہ کوئی شخص کسی سنجیدہ مقصد کے لئے بھی قلم کاغذ میں مشغول ہوگا۔ کراچی ائیر پورٹ کے اندر داخل ہوتے ہوئے میں امیگریشن کی کھڑکی پر کھڑا تھا۔ میں کئی آدمیوں کے پیچھے تھا۔ پولیس کے آدمی نے مجھے آگے کر دیا۔ ایک مسافر نے کہا کہ یہ تو پیچھے تھے۔ یہ بزرگ ہیں“ اس نے جواب دیا۔ اس نے فوراً میرے پاسپورٹ پر ضروری اندراج کرایا اور مجھے دیتے ہوئے کہا: ہمارے لئے دعا کیجیئے گا۔“ یہ میرے بڑھاپے کی قیمت تھی۔ میں نے سوچا کہ اس دنیا میں اگر طاقت ور" ہونا اپنے اندر کچھ ایڈوانٹیج رکھتا ہے تو یہاں کمزور" ہونے کے بھی کچھ ایڈوانٹیج ہیں۔ مگر اس کا فائدہ اسی شخص کو ملتا ہے جو فطرت کو اپنا عمل کرنے کا موقع دے اور دعا جلانہ مداخلت کرکے فطرت کا نقشہ بگاڑ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page