Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

ایک سفر

Urdu book, p. 69

By Maulana Wahiduddin Khan

وہاں سکنڈ سکریٹری کے طور پرہیں۔ میں نے محسوس کیا کہ مسٹر رحمن کو سفارت خانہ میں بہت با عزت مقام حاصل ہے۔ ہر ایک ان کا احترام کرتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ اپنا کام نہایت مستعدی کے ساتھ انجام دیتے ہیں۔ اور اکثر اپنی واقعی ڈیوٹی سے زیادہ کام کرتے ہیں۔ شاید یہی وہ حقیقت ہے جس کو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان لفظوں میں بیان کیا : ان قيمۃ المرء ما يحسنه ۔ آدمی جب کوئی برا کام کرے تو لوگوں کو صرف اس کی برائی یاد رہتی ہے۔ ہر آدمی اس کو بری نظر سے دیکھنے لگتا ہے۔ اس کے برعکس آدمی جب کوئی اچھا کام کرے تو وہ صرف اس اچھے کام کے واسطہ سے جانا جانے لگتا ہے۔ اس کا اچھا کام ہی اس کی تصویر برہ بناتا ہے۔ اس کی زندگی میں اگر کچھ کمتر پہلو ہیں، تو وہ سب پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔ ایک عرب عالم سے ملاقات ہوئی۔ وہ ہمارے مشن سے پوری طرح واقف ہیں۔ گفتگو کے دوران انھوں نے نہایت تاثر کے ساتھ کہا کہ آپ کا یہ مشن عربوں کے لئے رحمت ہے۔ کیوں کہ اگر وہ اس فکر کو اختیار کرلیں تو ان کے لئے ممکن ہو جائے گا کہ وہ انٹیگریٹی کے ساتھ زندگی گزار سکیں۔ کیوں کہ موجودہ زمانہ کی اسلامی تحریکوں نے عالم عربی میں جو حالات پیدا کر دئے ہیں، اس کے بعد ان کے لئے دو برائیوں میں سے ایک برائی کو اختیار کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ یا قید یا نفاق۔ اگر وہ چاہیں کہ وہ اپنے موجودہ دینی خیالات کے ساتھ زندہ رہیں تو انھیں عذاب سے دوچار ہونا پڑے گا۔ اور اگر وہ سیاسی نظام کے ساتھ موافقت کرکے زندہ رہیں تو یہ ان کے لئے منافقت ہوگی، کیونکہ ان کے دل میں کچھ ہوگا اور عمل میں کچھ : ان رسالتك هذه رحمة للعرب لان هذه الرسالة هم يستطيعون أن يعيشوا بشخصية انسجامية، ففى الاحوال القائمة التي توجد فى العالم العربي اليوم بسبب الحركات الاسلامية المعاصرة، لم يبق لهم الا الاختيار بين الشرين ، اما السجن وإما النفاق۔ بحيث انهم اذا ارادوا ان يعيشوا طبقاً لمشاعرهم الدينية عذبوا وان ارادوا ان يعيشوا وفق النظام ينافقوا ایک عرب ملک کے متعلق مجھے معلوم ہوا کہ وہاں ایک اسلامی جماعت کے افراد گھریلو انداز پر اپنا اجتماع کیا کرتے تھے۔ اس پر حکومت کی طرف سے پابندی لگا دی گئی۔ بعد کو ان لوگوں نے ذمہ داروں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page