ایک سفر
Urdu book, p. 70
By Maulana Wahiduddin Khan
سے مل کر اس کی اجازت حاصل کر لی۔ مگر یہ اجازت انہیں صرف اس وقت ملی جب کہ انہوں نے اقرار کیا کہ ان کا کوئی تعلق سیاست سے نہیں ہے۔ یہ اقرار ان کے تصور دین کے مطابق سراسر خلاف واقعہ تھا۔ کیوں کہ ان کا جو تصور اسلام ہے اس کی بنیاد ہی سیاست پر قائم ہے۔ ۲۱ مارچ ۱۹۹۰ کی شام کو عربوں کی ایک مجلس میں میں نے کہا کہ امت مسلمہ کا اصل مقصد شہادت علی الناس ہے۔ یعنی خالص دعوتی انداز میں وہ کام کرنا جس کو قرآن میں انذار و تبشیر کہا گیا ہے ۔ یہ از اول تا آخر ایک فکری مہم ہے ، اس کا کوئی تعلق جنگ اور قتال سے نہیں۔ حتی کہ فریق ثانی اگر اشتعال انگیزی کرے تب بھی ہمیں ٹکرار سے یک طرفہ اعراض کرنا ہے تاکہ داعی اور مدعو کے درمیان معتدل فضا باقی رہے۔ مسلمان اگر اس کام کو نہ کریں تو وہ خدا کی پکڑ سے بچ نہیں سکتے۔ اس سلسلہ میں میں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ ۱۹۶۲ میں چین نے آسام کی سرحد پر ہندوستان کے علاقہ میں اپنی فوجیں داخل کر دیں۔ اس وقت تیز پور (آسام) کا کمشنر اپنے دفتر سے بھاگ کر اپنے گھر آگیا۔ گھر پر اپنے بچوں کے ساتھ قیام کرنا عام لوگوں کے لئے کوئی جرم نہیں ۔ مگر مذکورہ کمشنر کے لئے یہ چیز جرم بن گئی۔ کیوں کہ اس نے اپنی ڈیوٹی چھوڑ دی تھی۔ جب کسی آدمی کو کسی خاص ڈیوٹی پر مقرر کیا جائے تو اس کی ساری قیمت اس ڈیوٹی کے مقام پر ہوتی ہے۔ کسی اور مقام پر بنا ہر وہ کوئی درست کام کر رہا ہو تب بھی اس کے کام کی کوئی قیمت نہیں۔ اس پر ایک عرب نوجوان نے کہا کہ آپ کی مثال سے قتال کا حکم ثابت ہوتا ہے۔ کیوں کہ تیز پور کے کمشنر کی غلطی ہی تھی کہ اس نے قتال کے محاذ کو چھوڑ دیا اور غیر قتال کے میدان میں واپس آگیا۔ میں نے کہا کہ مثال کا یہ مطلب نہیں۔ اصل یہ ہے کہ مثال کی دو قسمیں ہیں، ایک مثال برائے استدلال۔ دوسری مثال برائے توضیح ۔ آپ کا اعتراض اس وقت صحیح ہو سکتا تھا جب کہ میں نے یہ مثال برائے استدلال دی ہو ، حالاں کہ میں نے یہ مثال برائے توضیح دی ہے۔ جب آپ ایک نقطۂ نظر کو قرآن وحدیث سے ثابت کر دیں اور اس کے بعد ایک مثال بطور توضیح نقل کریں تو اس مثال کا صرف وہ جزء وہاں چسپاں ہوگا جو آپ کی بات سے متعلق (relevant) ہے۔ دوسرے پہلو جو غیر متعلق (irrelevent) ہیں وہ اپنے آپ حذف ہو جائیں گے ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader