Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

ایک سفر

Urdu book, p. 72

By Maulana Wahiduddin Khan

پڑھنے کے لئے دیں۔ اس سلسلہ میں انہوں نے بڑے حوصلہ افزا تجربات بتائے۔ مثلاً انھوں نے کہا کہ ان کی یونیورسٹی میں فزیولوجی کے ایک پروفیسر ڈاکٹر ”بی آر“ ہیں۔ انھوں نے پروفیسر موصوف کو کتابیں پڑھائیں۔ پڑھنے کے بعد ایک ملاقات میں انھوں نے عمر الہادی سے کہا کہ میرے بیٹے، یقین کرو، اگر تم نے اس حقیقت کو دنیا کے سامنے پہنچا دیا، تو تم دیکھو گے کہ دنیا کے ۹۰ فیصد لوگوں نے اسلام قبول کر لیا ہے: My son, believe me, if you can introduce this truth to the world as you have نائجیریا کے ایک مسلمان سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے اپنا نام نمری (Namdi) بتایا۔ ان کی تعلیم بیرونی ملکوں میں ہوئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ میرا خاندان مسلمان ہے۔ مگر مجھے مسلمانوں کی اس بات سے سخت اختلاف ہے کہ وہ لڑائی (جہاد) کو بہت زیادہ گلوریفائی کرتے ہیں۔ میں کسی بھی قسم کی لڑائی کے سخت خلاف ہوں۔ اسلام اگر سچا مذہب ہو تو وہ لڑائی کا مذہب نہیں ہو سکتا۔ اس معاملہ میں اپنے خاندان سے میرا اتنا اختلاف ہوا کہ میں نے خاندان کو چھوڑ دیا۔ اسلام اگر یہی ہے تو میں اس کو نہیں مانتا۔ میں نے سوچا کہ انسان کی فطرت ایسا دین چاہتی ہے جس میں امن ہو۔ مگر موجودہ مسلمانوں کے ماحول میں اس کو ایسا اسلام نہیں ملتا۔ یہاں وہ دیکھتا ہے کہ اسلام جنگ کا مبلغ ہے۔ وہ اپنی فطرت کی آواز پر چلے تو اس کو اپنے مسلم خاندان کو چھوڑنا پڑتا ہے، وہ اگر خاندان پر چلے تو اپنی فطرت کو۔ عرب اخبارات میں آجکل روزانہ دعوتِ اسلام اور قبولِ اسلام کی خبریں ہوتی ہیں۔ مثلاً طرابلس کے اخبار الدعوة الاسلامیة کے صرف ایک شمارہ ۲۱ مارچ ۱۹۹۰ء میں اس قسم کی کئی خبریں موجود تھیں۔ ایک خبر میں بتایا گیا تھا کہ پچھلے سات سال میں ہانگ کانگ کے سات ہزار باشندوں نے اسلام قبول کرنے کا اعلان کیا ہے (7 آلاف مواطن فی ھو بنج کو نج يشهون اسلامهم فی سبعة اعوام )

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page