ایک سفر
Urdu book, p. 71
By Maulana Wahiduddin Khan
میں نے اپنے نقطہ نظر کو اولاً قرآن و حدیث سے ثابت کیا۔ اس کے بعد توضیح کے لئے تیز پور کے کمشنر کی مثال دی۔ اس مثال میں صرف ڈیوٹی کا پہلو میری گفت گو سے تعلق رکھتا ہے۔ اس لئے اس کا ڈیوٹی کا پہلو لیا جائے گا، اور قتال کا پہلو اپنے آپ حذف ہو جائے گا۔ میری بات کی تردید کے لئے آپ کو قرآن و حدیث سے دلیل لانی ہوگی، کیونکہ میرا مبنائے استدلال قرآن و حدیث ہے نہ کہ کمشنر کی مثال۔ ایک عرب ملک کے کچھ عرب نوجوانوں سے ملاقات ہوئی۔ یہ ملک وہ ہے جو عام طور پر بدنام ہے کہ وہاں جبر ہے۔ وہاں کے حکمراں بے دین ہیں۔ وہاں اسلامی کام کے مواقع نہیں ہیں۔ مگر ان نوجوانوں کا تجربہ اس بات کا ثبوت ہے کہ کام کرنے والوں کے لئے ہر جگہ کام کے مواقع ہیں۔ ان عرب نوجوانوں نے راقم الحروف کی عربی مطبوعات پڑھیں اور انگریزی الرسالہ کا مطالعہ کیا۔ اس سے ان کے اندر دعوتی کام کا ذہن پیدا ہوا۔ ان کے ملک میں باہر کے ملکوں کے بہت سے غیر مسلم لوگ کام کرتے ہیں۔ ان کا رکن غیر مسلموں کے درمیان انھوں نے دعوتی کام کرنا شروع کیا۔ اب تک وہ بہت سے لوگوں کو اسلام میں داخل کر چکے ہیں۔ انھوں نے مجھے کچھ عربی کے فارم دکھائے۔ یہ فل اسکیپ سائز میں عمدہ کاغذ پر عمدہ چھپے ہوئے فارم تھے۔ ان میں ایک تصویر کا خانہ تھا جہاں نو مسلم کی تصویر لگائی جاتی تھی۔ اسی کے ساتھ فارم میں مختلف خانے تھے جن کو نو مسلم بھر کر اپنا دستخط کرتا تھا۔ یہ فارم اس ملک کی حکومت نے نو مسلموں کے لئے چھپوا رکھے ہیں۔ مذکورہ نوجوانوں نے سرکاری دفتر سے ربط قائم کرکے یہ فارم حاصل کئے اور اسلام قبول کرنے والوں پر اس کو استعمال کرنا شروع کیا۔ اس طرح ایک بد نام ملک میں آزادانہ طور پر ایک دینی کام انجام پا رہا ہے۔ مزید یہ کہ یہ دینی کام وہ ہے جس کی بابت حدیث میں آیا ہے کہ وہ تمہارے لئے سرخ اونٹوں سے بہتر ہے۔ ایک عرب نوجوان عمر الہادی سے ملاقات ہوئی۔ وہ ایک عرب یونیورسٹی میں میڈیکل سائنس کے طالب علم ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ الرسالہ انگریزی اور مرکز کی عربی مطبوعات کو پڑھ کر ان کے اندر دعوت کا جذبہ پیدا ہوا۔ اپنی یونیورسٹی کے غیر مسلم پروفیسروں سے انھوں نے ربط قائم کیا۔ اور ان کو انگریزی کتابیں، مثلاً قرآن کا انگریزی ترجمہ، گاڈ آر ائنز، پرآفٹ آف ریوولوشن وغیرہ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader