ایک سفر
Urdu book, p. 75
By Maulana Wahiduddin Khan
ان واقعات پر سوچتے ہوئے میری سمجھ میں آیا کہ غالباً یہی مطلب ہے اس حدیث کا جس میں کہا گیا کہ آخر زمانہ میں امت کے بعد کے لوگ اپنے پہلے کے لوگوں پر لعنت کریں گے (لعن آخر هذه الامة اولها)، اس روایت میں امت کے اول حصہ سے صحابہ و تابعین کا زمانہ مراد نہیں ہو سکتا۔ کیوں کہ دور اول کے لوگ تو بعد والوں کے لئے فخر بن چکے ہوں گے۔ پھر وہ ان پر لعنت کیسے کر سکتے ہیں۔ اس میں لعنت کا مطلب سادہ معنوں میں تنقید بھی نہیں ہو سکتا۔ کیوں کہ تنقید تو خود صحابہ کے معیاری دور میں جاری تھی۔ پھر تنقید کو نا محمود چیز کیسے قرار دیا جا سکتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس حدیث میں زوال کے دور میں پیدا ہونے والے قومی مزاج کی بات کہی گئی ہے۔ دورِ زوال میں مسلمانوں کا حال یہ ہوجاتا ہے کہ ان کی اپنی کمزوریوں کے نتیجہ میں ان کے لئے جو مسائل پیدا ہوتے ہیں، ان کا ذمہ دار وہ دوسروں کو بتاتے ہیں۔ وہ دوسروں کے خلاف دھوم مچا کر ایک "انقلاب" لاتے ہیں۔ بعد کو جب یہ نام نہاد انقلاب ان کے مسائل کو حل نہیں کرتا تو ان کے درمیان دوسرے لیڈر ابھرتے ہیں، جو پچھلے لیڈر کو برا بتا کر دوبارہ ایک اور منفی قیادت ظہور میں لاتے ہیں۔ یہی مطلب ہے حدیث کے ان الفاظ کا کہ امت کا آخر اپنے اول کو ملعون ٹھہرائے گا۔ راستہ میں جہاز دمشق میں اترا۔ اچانک اپنے آپ کو دمشق میں پاکر اس علاقہ کے بارہ میں بہت سی باتیں ذہن میں تازہ ہوگئیں ۔ دمشق غالباً دنیا کا سب سے زیادہ پرانا شہر ہے جو سمندر سے تقریباً ۵۰ میل دور آباد ہے۔ قدیم زمانہ سے وہ مختلف حکمرانوں کے قبضہ میں رہا ہے۔ چوتھی صدی عیسوی میں جب کہ وہ رومی (باز نطینی) قبضہ میں تھا، یہاں کے اکثر باشندے عیسائی ہوگئے۔ جو پیٹر کا مندر گرجا گھر میں تبدیل کر دیا گیا۔ کہا جاتا ہے کہ یہ جگہ اب جامع اموی میں شامل ہے۔ مسلم خلیفہ نے یہ جگہ عیسائیوں سے خرید کر حاصل کی تھی : The Christian cathedral was purchased by the caliphate and turned into ۶۳۵ ء میں دمشق عربوں کے قبضہ میں آیا۔ ۵۰ ۷ - ۶۶۱ ء کے درمیان وہ اسلامی خلافت کا مرکز رہا۔ ۱۵۱۶ ء میں ترکوں نے اس پر قبضہ کیا۔ اس کے بعد سے چار سو سال تک وہ ان کے قبضہ میں رہا۔ ۱۸۹۳ ء میں دمشق اور بیروت کے درمیان ریلوے لائن بچھائی گئی ۔ ۱۹۰۸ء میں دمشق اور مدینہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader