Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

ایک سفر

Urdu book, p. 76

By Maulana Wahiduddin Khan

کے درمیان ریلوے سے لائن قائم کی گئی ۔ ۱۹۴۶ میں اس کو مغربی قبضے سے آزادی حاصل ہوئی۔ موجودہ دمشق تقریباً ایک سومربع کلومیٹر کے رقبہ میں آباد ہے۔ دمشق کا انٹرنیشنل ایئرپورٹ اس کے مشرق میں وسط شہر سے تقریباً ۱۹ میل کے فاصلہ پر واقع ہے۔ ۱۹۷۱ کی مردم شماری کے مطابق، شہر کی آبادی دس لاکھ سے زیادہ ہے جس میں تقریباً سوا لاکھ فلسطینی مہاجرین شامل ہیں۔ دمشق کی آبادی میں ۹۱ فیصد مسلمان، ۸ فی صد عیسائی ہیں۔ اس کے علاوہ کچھ یہودی بھی یہاں آباد ہیں۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ نے قریش پر اپنی اس نعمت کا ذکر فرمایا ہے کہ اس نے ان کے لئے جاڑے اور گرمی میں پرامن تجارتی سفروں کا انتظام کیا (قریش ۱) ، یہاں گرمی کے زمانہ کے سفر سے مراد قریش کا وہ تجارتی سفر ہے جو گرمی کے موسم میں مکہ سے دمشق وغیرہ کی طرف ہوتا تھا جو کہ حجاز کی نسبت سے ٹھنڈے علاقے تھے ۔ قدیم زمانہ میں دمشق ایک عرصہ تک بین الاقوامی تجارت کا مرکز رہا ہے۔ موجودہ دمشق کو بین الاقوامی تجارتی نقشہ میں کوئی قابلِ ذکر مقام حاصل نہیں۔ البتہ وہ اپنے تاریخی آثار کی بنا پر بین الاقوامی سیاحوں کی کشش کا مرکز ضرور ہے۔ اس کا مطلب دوسرے لفظوں میں یہ ہے کہ دمشق کی اہمیت آج کے انسان کے لئے صرف اپنے ”ماضی“ کی بنا پر ہے، وہ اپنے ”حال“ کے اعتبار سے لوگوں کے لئے اہم نہیں۔ یہی آج تمام دنیا کے مسلمانوں کا معاملہ ہے۔ مسلمان اب دنیا کے لئے گذری ہوئی تاریخ کا موضوع ہیں، جدید انسان کے لئے وہ حال اور مستقبل کے عنوان کی حیثیت نہیں رکھتے۔ دمشق کی بہت سی خصوصیات میں سے ایک امتیازی خصوصیت یہ ہے کہ روایات کے مطابق، یہی وہ مقام ہے جہاں خروج دجال کے وقت حضرت مسیح دو بارہ اتریں گے۔ یہ روایت مسلم، ابو داؤد ترمذی، ابن ماجہ وغیرہ میں آئی ہے۔ یہاں ہم صحیح مسلم سے متعلقہ الفاظ نقل کرتے ہیں : قال مسلم في صحیحه عن النواس بن سمعان قال : ذكر رسول الله ﷺ الدجال فبینما هو كذلك إذ بعث الله (المسيح بن مريم) علیه السلام، فينزلو عند المنارة البيضاء شرقي دمشق بين مهرودتين واضعا كفيه على أجنحة ملكين، إذ رفعه تحدّر منه كجمان اللؤلؤ، ولا يحل لكافر يجد ريح نفسه إلا مات، ونفسه ينتهي حيث ينتهى طرفه، فيطلبه حتى يدركه بباب لد، فيقتله، ثم يأتي عيسى عليه السلام قوما قد عصمهم الله منه فيمسح عن وجوههم، و يحدثهم بدرجاتهم في الجنة، حضرت نواس بن سمعان کہتے ہیں کہ اسی دوران اللہ مسیح بن مریم کو بھیجے گا، وہ سفید مینار کے پاس دمشق کے مشرقی حصہ میں اتریں گے ، دو زرد کپڑے کے درمیان ، دو فرشتوں کے بازوؤں پر اپنے ہاتھ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page