Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

ایک سفر

Urdu book, p. 78

By Maulana Wahiduddin Khan

تعریف کی اور ان کے بہت سے اخلاقی واقعات بتائے، جو ہندوستان جیسے ملکوں میں ناقابلِ تصور ہیں۔ انھوں نے مزید بتایا کہ شام میں اگر چہ سخت حکومت قائم ہے۔ مگر اس کا ایک فائدہ یہ ہے کہ وہاں بہت امن وامان ہے۔ اور جان و مال کا کوئی خطرہ کسی آدمی کو نہیں رہتا۔ ٹیکسی والا اگر کچھ پریشان کرے تو صرف یہ کہنا کافی ہوتا ہے کہ میں شرطہ (پولیس) کو ٹیلیفیون کرتا ہوں۔ ایک شریر آدمی نے سڑک پر کسی لڑکی کو چھیڑ دیا۔ ایک آدمی آتا ہے جو بنٹا ہر عام لباس میں ہے۔ وہ چھیڑنے والے کی سرزنش کرتا ہے۔ وہ شخص اس آدمی سے بھی لڑنے کے لئے تیار ہو جاتا ہے۔ اب اگر وہ آدمی صرف اتنا کہہ دے کہ تعرف میں انا (تعرف من أنا) یعنی تم جانتے ہو کہ میں کون ہوں ۔ اتنا کہتے ہی شریر آدمی دہشت زدہ ہو کر رک جائے گا۔ انھوں نے بتایا کہ شام کے لوگ بہت مہمان نواز ہوتے ہیں۔ مثلاً ایک بار وہ چند اور طالب علموں کے ساتھ شام کے دیہات میں گئے۔ ایک زمیندار نے اپنے باغ میں انھیں ہر قسم کے پھل کھلائے۔ گھر پر دعوت کی۔ کہا کہ آپ لوگ کئی دن ٹھہرے۔ جب وہ لوگ ٹھہرنے پر راضی نہیں ہوئے تو ریل کا فرسٹ کلاس کا کرایہ اور ہر ایک کو ۵۰۰ لیرا دے کر رخصت کیا۔ ۲۴ مارچ کو صبح ۷ بجے ٹھیک وقت پر جہاز کراچی کے ہوائی اڈہ پر اترا گیا۔ پاکستان ایئر ویز پر جب بھی میں نے سفر کیا ہے، میں نے پایا ہے کہ وہ وقت کے بہت پابند ہیں۔ اس کے برعکس ایئر انڈیا کم از کم میرے تجربہ میں وقت کے معاملہ میں پاکستان ایئر لائنز سے پیچھے ہے۔ اس سفر میں ڈاکٹر عبد الرزاق اسکندر صاحب کا ساتھ تھا۔ ان کی امامت میں تین نمازیں (مغرب، عشا، فجر) ہوائی جہاز کے اندر جماعت کے ساتھ ادا کی۔ اڑتے ہوئے جہاز میں کھڑے ہو کر نماز ادا کرنا بڑا عجیب معلوم ہوا جس کو لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ میں نے سوچا کہ زمین بھی تو ایک اڑتا ہوا قدرتی جہاز ہے۔ مگر زمین کے جہاز میں بچپن سے سوار ہونے کی وجہ سے استجاب کی کیفیت پیدا نہیں ہوتی۔ لیکن جہاز کے اندر آدمی اپنے شعور کے تحت چڑھتا ہے، اس لئے جہاز کی نماز استجاب کی کیفیت پیدا کرنے کا سبب بن جاتی ہے۔ کراچی میں سوسائٹی آف فریشنز کے تحت ایک سمپوزیم ہوا۔ اس کا عنوان تھا : "بے صبر معاشو اور قومی اتحاد کے مسائل“ اس موضوع پر مختلف لوگوں نے تقریریں کیں۔ علامہ اقبال کے صاحبزادے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page