ایک سفر
Urdu book, p. 77
By Maulana Wahiduddin Khan
رکھے ہوئے ۔ جب وہ اپنا سر جھکائیں گے تو قطرہ ٹپکے گا اور جب وہ سر کو اٹھائیں گے تو اس سے موتی کی مانند آنسو گریں گے۔ جس منکر تک بھی ان کی سانس کی ہوا پہنچے گی وہ مر جائے گا، اور ان کی سانس وہاں تک پہنچے گی جہاں تک ان کی نظر پہنچے گی۔ حضرت مسیح دجال کا پیچھا کریں گے، یہاں تک کہ وہ اس کو لُد کے دروازہ پر پکڑ لیں گے ، پھر وہ اس کو قتل کر دیں گے۔ اس کے بعد عیسیٰ علیہ السلام ایک ایسے گروہ کے پاس آئیں گے جس کو اللہ نے ان سے بچایا ہوگا۔ وہ ان کے چہروں کا مسح کہیں گے اور جنت میں ان کے درجات کو بتائیں گے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ حضرت مسیح جامع دمشق کے منارہ پر اتریں گے۔ مگر یہ بات الفاظ حدیث میں موجود نہیں۔ صبح کی نماز کے وقت اترنے کا ذکر تور روایات میں ملتا ہے مگر مسجد کے منارہ پر اترنے کا ذکر کسی روایت میں نہیں۔ اصل یہ ہے کہ ام ۷ھ میں دمشق کی جامع اموی میں پتھروں کے ذریعہ ایک سفید مینار بنایا گیا ، کیوں کہ سابقہ مینار آگ لگنے کی وجہ سے گر گیا تھا۔ اس پر کچھ لوگوں نے گمان کر لیا کہ یہی وہ " سفید مینار " ہے جس کے اوپر حضرت مسیح قیامت کے قریب اتریں گے (تفسیر ابن کثیر ، الجزء الاول ، ۵۸۳ )، حالاں کہ حدیث میں جو لفظ ہے وہ صرف " مشرقی دمشق کے سفید مینارہ کے پاس " ہے نہ کہ " مسجد کے سفید مینارہ پر "۔ عیسائی حضرات کے یہاں بھی اس قسم کا ایک عقیدہ ہے جس کو ان کی مذہبی اصطلاح میں پاروسیا (Parousia) کہا جاتا ہے۔ یہ یونانی زبان کا ایک لفظ ہے جس کے معنی آمد ثانی (Second Coming) کے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ قیامت کے وقت حضرت مسیح دوبارہ انسانوں کے درمیان آئیں گے۔ بائبل میں ہے : یہی یسوع جو تمہارے پاس سے آسمان پر اٹھایا گیا ہے ، اسی طرح پھر آئے گا جس طرح تم نے اسے آسمان پر جاتے دیکھا ہے ( رسولوں کے اعمال ۱ : ۱۱ )۔ تاہم حضرت مسیح کی دوبارہ آمد کے بارہ میں عیسائی حضرات کا عقیدہ بہت زیادہ واضح نہیں۔ مثلاً اس کی ایک تعبیر یہ کی گئی ہے کہ حضرت مسیح بہ شکل روح دوبارہ دنیا میں آچکے ہیں ، وہ ہر وقت اور ہر جگہ موجود رہتے ہیں۔ اور ہر مہسی کو اس کی چیزوں میں برکت عطا کرتے ہیں۔ مولا نا شمس الدین ندوی سے ملاقات ہوئی۔ وہ دمشق میں دو سال تک رہے ہیں اور شام کے مختلف علاقوں میں جانے کا اتفاق ہوا ہے۔ انھوں نے شام کے مسلمانوں کے اخلاق کی بہت

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader