ایک سفر
Urdu book, p. 88
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک سفر بین اقوامی سفر آج کل ہوائی جہاز کی تیز رفتاری کے ساتھ کئے جاتے ہیں۔ مگر میں ذہنی طور پر ایک "سست رفتار" آدمی ہوں۔ اس بنا پر اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ایک سے زیادہ سفر قریب کی تاریخوں میں پیش آجائیں تو میں صرف ایک کو اختیار کر پاتا ہوں۔ اور بقیہ مجھ سے چھوٹ جاتا ہے۔ یہی واقعہ موجودہ سفر کے موقع پر پیش آیا۔ مئی ۱۹۹۰ء کی ابتدائی تاریخوں کے لئے میرے پاس دو بیرونی دعوت نامے آئے تھے۔ دونوں کا ٹکٹ بھی آچکا تھا۔ مگر میں صرف ایک سفر کر سکا۔ دوسرا سفر مجھے چھوڑ دینا پڑا۔ پہلا سفر مجھے جنیوا (سوئٹزرلینڈ) کے لئے کرنا تھا۔ جنیوا میں سید جمال الدین افغانی کے مجلہ العروة الوثقی کے سلسلہ میں ایک تقریب تھی۔ یہ تقریب انٹرنیشنل ہوٹل (جنیوا) میں ۴ مئی ۱۹۹۰ء کو ہوئی۔ سید جمال الدین افغانی نے پیرس سے العروة الوثقی کے نام سے ایک ماہانہ پرچہ عربی زبان میں نکالا تھا۔ وہ چھ مہینہ جاری رہ کر بند ہو گیا۔ اب ڈاکٹر عبد الحکیم طبیعی (افغانی) اسی نام سے جنیوا سے ایک پرچہ نکال رہے ہیں۔ یہ عربی اور انگریزی ، دونوں زبانوں میں شائع ہوتا ہے۔ جنیوا میں اسی پرچہ (العروة الوثقیٰ) کی دسویں سالگرہ (anniversary) کے سلسلہ میں ایک تقریب تھی۔ مجھے اس تقریب میں شریک ہونا تھا اور وہاں اپنے خیالات کا اظہار کرنا تھا۔ منتظمین کے رزرویشن کے مطابق، اس کے لئے میری روانگی ۳۰ اپریل کو مقرر تھی۔ دوسری کانفرنس ڈکار (سینیگال) میں ۷۔۱۰ مئی ۱۹۹۰ء کو تھی۔ اس میں شرکت کے لئے مجھے رزرویشن کے مطابق، ۴ مئی کو جنیوا سے روانہ ہونا تھا۔ مگر اپنی ذہنی سست رفتاری کی بنا پر میں بیک وقت دونوں سفروں کا پرو گرام نہ بنا سکا۔ چنانچہ جنیوا کا پرو گرام مجھ سے چھوٹ گیا۔ دہلی سے ۳۰ اپریل کو روانہ ہونے کے بجائے میں ۴ مئی کو روانہ ہوا۔ اور اسی دن جنیوا ہوتے ہوئے شام کو ڈکار پہنچا۔ اتنا لمبا سفر ایک دن میں طے ہونے کا سبب وقت کا فرق تھا۔ انڈیا اور سینیگال کے وقت میں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader