Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

ایک سفر

Urdu book, p. 90

By Maulana Wahiduddin Khan

ہوئی قوم ہیں۔ یہ لوگ مسلمانوں کو مادی معیار سے جانتے ہیں۔ یہ معیار بجائے خود غلط ہے۔ مسلمان کی نظر میں اصل معیار ایمان ہے۔ اور مسلمانوں کو چوں کہ ایمان کی دولت حاصل ہے، اس لئے وہ سب سے آگے ہیں۔ اور دوسری تمام قومیں ان سے پیچھے ہیں۔ کیوں کہ وہ کفر و الحاد میں مبتلا ہیں۔ اور کفر و الحاد اور مادیت ہی دراصل وہ چیز ہے جو کہ پچھتر این ہے (وان الكفر والالحاد والماديات هو المتخلف) یہ تقابل درست نہیں۔ تقدّم سے مراد مادی تقدّم بھی ہو سکتا ہے اور ایمانی تقدّم بھی۔ اگر مسلمانوں کو مادی تقدّم کے اعتبار سے جانچنا ہو تو انہیں مغربی قوموں کے معیار سے جانچا جائے گا۔ اور اگر مسلمانوں کو ایمانی تقدّم کے اعتبار سے جانچنا ہو تو ان کو اصحاب رسول کے معیار سے جانچا جائے گا۔ کیوں کہ اس دوسرے معاملہ میں "قتدوۃ" وہی ہیں۔ مضمون نگار اگر چاہتے ہیں کہ تقدّم کے لئے ایمان کو معیار بنائیں تو ان کو چاہئے کہ موجودہ مسلمانوں کے ایمان کا تقابل اصحاب رسول کے ایمان سے کریں اور موجودہ مسلمانوں کی ماديات کا تقابل موجودہ ملحدين کی ماديات سے۔ یہ ایک غیر منطقی تقابل ہے کہ تقدّم کا معیار ایمان کو قرار دیا جائے اور پھر ایمان کو ملحدین کے معیار سے جانچا جائے۔ اس قسم کے مضامین بلا شبہ مضر ہیں۔ کیوں کہ وہ مسلمانوں میں جھوٹا فخر پیدا کرکے انہیں بے عمل اور بے تدبیر بنا رہے ہیں۔ نئی دہلی میں سینگال کی ایمبیبی موجود ہے۔ جو صاحب سینگال سینگال ایمبیبی میں میرا ویزا لینے کے لئے گئے تھے، انھوں نے بتایا کہ ویزا افسر نے پاسپورٹ میں میری تصویر دیکھی تو کہا کہ میں ان کو جانتا ہوں۔ ہم کو خوشی ہے کہ وہ ہمارے ملک میں جارہے ہیں۔ ویزا افسر کے اس طرح "پہچانے" کا سبب یہ تھا کہ ٹائمز آف انڈیا (۱۰ دسمبر ۱۹۸۹) میں میرا انٹرویو چھپا تھا۔ اس میں انٹرویو کرنے میری تصویر بھی چھاپ دی تھی۔ مذکورہ افسر نے کہا کہ میں نے اس انٹرویو کو پڑھا تھا اور اس میں ان کی تصویر دیکھی تھی۔ یہ تصویر اب بھی میرے پاس محفوظ ہے۔ موجودہ زمانہ کے نئے امکانات میں سے ایک امکان یہ ہے کہ ایک شخص کسی آدمی کو براہ راست نہ دیکھے ، اس کے باوجود وہ اس کو اس کی صورت سے پہچانتا ہو۔ اس زمانہ میں تصویری صحافت نے انسان کے اوپر جو نئے مواقع کھولے ہیں، ان کی یہ ایک چھوٹی سی مثال ہے۔ ہندوستان کے علما تصویر کو ناجائز بتاتے ہیں، مگر یہی علما عرب شخصیتوں کا اپنے اداروں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page