ایک سفر
Urdu book, p. 91
By Maulana Wahiduddin Khan
میں استقبال کر رہے ہیں ، جب کہ یہ عرب لوگ تصویر کو عین جائز سمجھتے ہیں۔ ہندوستان کے دو عالموں کے درمیان اگر اختلاف ہو تو دونوں کے درمیان نزاع وتائم ہو جاتی ہے۔ مگر یہی اختلاف ہندوستانی عالم اور عرب عالم کے درمیان ہو تو ہندوستانی عالم اس خندہ پیشانی کے ساتھ گوارا کر لیتا ہے۔ اس فرق کا سبب کیا ہے ، یہ ایک نازک معاملہ ہے۔ مگر اس سے پردہ اٹھانا شاید خدا کے سوا کسی اور کے اختیار میں نہیں۔ دہلی سے لفتھانسا کی فلائٹ ۷۱ کے ذریعہ رات کو ۳ بجے (۴ مئی ۱۹۹۰ء) روانگی ہوئی۔ تقریباً آٹھ گھنٹہ کی مسلسل پرواز کے بعد فرینکفرٹ (جرمنی) پہنچا۔ پورا سفر نہایت ہموار گزرا۔ سفر کا وقت بڑا عجیب تھا۔ یعنی نصف شب کے وقت رات کو ساڑھے گیارہ بجے گھر سے ائیر پورٹ کے لئے روانہ ہونا تھا۔ ایک صاحب نے مشورہ دیا کہ رات کی نیند خراب ہو جائے گی۔ اس لئے دن کو سو لیں۔ مگر میں ایسا نہ کر سکا۔ یہ مشورہ درست نہ تھا۔ میں دہلی میں برابر اپنا کام کرتا رہا۔ اس کی وجہ سے کچھ زیادہ تکان آگئی۔ اس کا فائدہ یہ ہو اک جہاز کے اندر پہنچا تو جلد ہی نیند آگئی۔ دیر تک گہری نیند سوتا رہا۔ اس طرح نیند بھی ایک اور شکل میں پوری ہوگئی۔ وقت بھی استعمال ہو گیا اور آٹھ گھنٹہ کا لمبا سفر آسانی کے ساتھ گزر گیا۔ بہت سے مشورے بظاہر ٹھیک نظر آتے ہیں مگر حقیقہ وہ بے ٹھیک ہوتے ہیں۔ فرینکفرٹ ائیرپورٹ پر میں نے ۴ مئی کو فجر کی نماز پڑھی۔ ایک جرمن خاتون میری نماز کو غور سے دیکھتی رہی۔ جب میں فارغ ہو کر اٹھا تو اس نے معذرت کے ساتھ پوچھا ”کیا آپ یوگا کا عمل کر رہے تھے۔“ میں نے کہا نہیں، میں صلاة کا عمل کر رہا تھا۔ وہ یوگا کو جانتی تھی ، مگر وہ صلاة کو نہیں جانتی تھی۔ اس نے پوچھا کہ صلاة کیا چیز ہے۔ میں نے کہا ، کیا آپ خدا کو مانتی ہیں۔ اس نے کہا ہاں، میں نے کہا کیا آپ مانتی ہیں کہ خدا ہمارا خالق اور رب ہے۔ اس نے کہا ہاں۔ میں نے کہا پھر نماز اسی خالق اور مالک کی عظمت اور اس کے احسان کا اعتراف ہے۔ خدا صبح لاتا ہے تو ہم جھک کر کہتے ہیں کہ خدا ! تیرا شکر ہے کہ تو نے میرے لئے دن کو روشن کیا تاکہ میں کام کروں۔ خدا شام لاتا ہے تو ہم جھک کر کہتے ہیں کہ خدا ! تیرا شکر ہے کہ تو میرے لئے رات لایا تاکہ میں آرام کروں۔ اس طرح ہم رات اور دن میں پانچ بار خدا کی عظمت اور اس کے انعامات کا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader