Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

ایک سفر

Urdu book, p. 94

By Maulana Wahiduddin Khan

یعنی آپ کی جو بھی منزل ہو، یورپ کے ۸۸۰ بہترین ہوٹلوں سے کسی ہوٹل میں جگہ حاصل کرنے کے لئے آپ کو صرف ایک چیز کی ضرورت ہے اور وہ امریکی بینک کا امریکن ایکسپریس کارڈ ہے۔ اس کو میں نے پڑھا تو قرآن کی وہ آیت یاد آگئی جس میں اہل جنت کی زبان سے جنت کے بارہ میں کہلا گیا ہے کہ شکر ہے اس اللہ کا جس نے ہمارے ساتھ اپنا وعدہ پورا کیا اور ہم کو اس زمین کا وارث بنا دیا۔ ہم جنت میں جہاں چاہیں مقام کریں۔ (الزمر ۳۴)۔ جہاز میں سویٹزرلینڈ کے ایک اعلی تعلیم یافتہ شخص سے ملاقات ہوئی۔ ان کی مادری زبان کچھ اور تھی، مگر انگریزی زبان روانی کے ساتھ بول رہے تھے۔ گفتگو کے دوران انڈیا کا ذکر آیا۔ انھوں کہا کہ انڈیا اتنا بڑا ملک ہے کہ کسی ایک حکومتی اقتدار کے تحت اس کا انتظام نہیں کیا جا سکتا : India is too big to be managed. ان کا خیال تھا کہ انڈیا کا وہی انجام ہوگا جو سوویت یونین کا ہورہا ہے۔ وہ disintegrate ہو جائے گا۔ میں نے کہا کہ مگر ہمارے سامنے دوسری مثال یوایس اے (امریکہ) کی ہے۔ وہ انڈیا سے بھی زیادہ بڑا ہے۔ اس کے باوجود اس کا انتظام چل رہا ہے۔ انھوں کہا کہ امریکہ کے وسائل بہت زیادہ ہیں۔ وہ ایک امیر ملک (rich country) ہے۔ اس لئے وہاں وہ عوامی بے چینی نہیں جو کہ انڈیا میں بہت بڑے پیمانے پر پائی جاتی ہے۔ میں نے کہا کہ سوویت یونین کو جو چیز منتشر کر رہی ہے وہ اس کا سائز نہیں ہے، بلکہ اس کا جبر ہے۔ اسی طرح امریکہ کو جو چیز کامیاب بنائے ہوئے ہے وہ اس کی دولت نہیں ہے بلکہ آزادی ہے۔ انڈیا میں بھی آزادی ہے۔ مگر انڈیا میں اسی کے ساتھ جہالت ہے۔ انڈیا یا اگر تعلیم کے معاملہ میں امریکہ کے برابر ہو جائے تو اس کی سالمیت کو کوئی خطرہ نہیں رہے گا۔ میں نے کہا کہ ۴۷ ۱۹ کے بعد انڈیا میں جو حکومتیں آئیں ، بدقسمتی سے ان میں سے کسی حکومت نے بھی تعلیم کو وہ اہمیت نہ دی جو اس کو دینا چاہئے۔ چنانچہ آج بھی انڈیا میں ۸۰ فی صد سے زیادہ افراد ناخوانده یا نیم خواندہ ہیں۔ یہی انڈیا کا اصل مسئلہ ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page