Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

ایک سفر

Urdu book, p. 93

By Maulana Wahiduddin Khan

انھوں نے بتایا کہ پروفیسر کارل ٹراں کے الفاظ پر حاضرین میں سے کسی نے اعتراض نہیں کیا۔ بلکہ اکثر سائنس داں اٹھ کر ان کے پاس آئے اور اظہار مسرت میں ان سے ہاتھ ملایا۔ یہ احساس ان تمام اہل علم کا ہے کہ جو پنچر کا مطالعہ کرتے ہیں۔ کوئی جرات مند اس کا اعلان کر دیتا ہے۔ اور کچھ لوگ اس کو اپنے دل میں لئے ہوئے اس دنیا سے چلے جاتے ہیں۔ لفتھانسا کی فلائٹ میگزین (Bordbuch) کے شمارہ مئی ۱۹۹۰ء کے ایک مضمون میں بتایا گیا تھا کہ دوسری عالمی جنگ کے بعد ایسٹ جرمنی اور ویسٹ جرمنی میں ہوائی پرواز پر پابندیاں عائد ہوگئی تھیں۔ دونوں کے بیچ ایک درمیانی علاقہ قائم کر دیا گیا تھا جس کو مختصر طور پر اے ڈی آئی زڈ کہا جاتا تھا: Air Defence Identification Zone (ADIZ) مگر آج یہ حد بندی ٹوٹ گئی ہے۔ اب دونوں جرمن ریاستوں کے درمیان صرف لفتھانسا کی ہفتہ میں ۲۸ پروازیں قائم ہو چکی ہیں۔ آج کی دنیا میں لوگ جغرافی حدود کو توڑ رہے ہیں تاکہ وہ زیادہ سے زیادہ اپنے تعلقات کو بڑھائیں مگر اسی دنیا میں مسلمان ہر جگہ اپنی جغرافی حدود کو گھٹانا چاہتے ہیں تاکہ اپنے چھوٹے چھوٹے گھروندے بناسکیں ۔ اس کو وہ بطور خود اسلامستان" کہتے ہیں۔ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں میں اس ظاہر ہ کا ظہور دراصل احساس شکست کی علامت ہے۔ مسلمان بڑھتے ہوئے کا میٹیشن کی اس دنیا میں دوسروں سے مقابلہ کر کے ان کے درمیان زندہ رہنے کی طاقت اپنے اندر نہیں پاتے۔ اس لئے وہ چاہتے کہ اپنی حدیں کھینچ کر اس کے اندر اپنے لئے زندہ رہنے کا موقع تلاش کریں۔ موجودہ زمانہ کی وہ تحریکیں جن کو مسلمان بطور خود آزادی کی تحریکیں کہتے ہیں، وہ صرف ان کی شکست خوردہ نفسیات کے مظاہر ہیں۔ اس سے زیادہ اور کچھ نہیں۔ موجودہ زمانہ میں ہوٹلوں اور بینکوں کی عالمی تنظیم نے اس کو ممکن بنا دیا ہے کہ آدمی دنیا کے کسی بھی حصہ میں اپنے لئے ہر قسم کی آسودگی اور مواقع اطمینان بخش طور پر پاسکے۔ میگزین میں " ایکسپریس کارڈ" کا اشتہار ان لفظوں میں ایک پورے صفحہ پر چھپا ہوا تھا :

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page