ایک سفر
Urdu book, p. 98
By Maulana Wahiduddin Khan
۴ مئی کی سہ پہر کو سوئس ایئر کی فلائٹ ۴۲۴ کے ذریعہ جنیوا اسے دکار کے لئے روانگی ہوئی۔ میری سیٹ کھڑکی سے ملی ہوئی تھی۔ باہر کی طرف دیکھا تو جہاز کا ” پر “ لمبا پھیلا ہوا تھا۔ پر کے اوپر انگریزی میں یہ الفاظ لکھے ہوئے تھے کہ اس کے آگے نہ چلیں: Do not walk outside this area. ہوائی جہاز جب ایر پورٹ پر کھڑا ہوتا ہے تو کارکن حضرات اس کو چیک کرتے ہیں۔ اس وقت کوئی شخص چلتا ہوا پر کے اوپر پہنچ سکتا ہے۔ اس لئے اس کو پر کے اوپر چلنے سے منع کر دیا گیا۔ کیونکہ ہوائی جہاز کا پر اس کا کمزور حصہ ہے۔ وہ انسانی بوجھ کا تحمل نہیں کر سکتا۔ پر کے اوپر مذکورہ الفاظ پڑھتے ہوئے مجھے وہ حدیث یاد آ گئی جس میں کہا گیا ہے کہ اللہ کی کچھ حدیں ہیں تم ان حدوں سے تجاوز نہ کرو۔ " حد " کا معاملہ دنیا اور آخرت دونوں قسم کے معاملات میں انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔ دونوں عالموں میں وہی لوگ کامیاب رہیں گے جو حد کو جانیں۔ مثلاً کسی سے آپ کو اختلاف ہو تو علمی تردید کی حد تک آپ جا سکتے ہیں۔ اس کے آگے الزام تراشی اور کردار کشی اور سب وشتم کے لئے زبان و قلم کو استعمال کرنے کی کسی کو اجازت نہیں۔ اسی طرح عمل کے معاملہ میں جائز حدود میں سرگرم ہونے کی ہر ایک کو اجازت ہے۔ مگر جائز حدود کے باہر کسی کو اجازت نہیں۔ دکار ایئر پورٹ سے شہر جاتے ہوئے ہماری گاڑی جہاں کہیں لال بتی پر کھڑی ہوتی، فوراً ہی ” سیاہ فام “ چھوٹے اور بڑے افراد گاڑی کے گرد جمع ہو جاتے۔ یہ عین وہی منظر ہے جو دہلی کی سڑکوں پر نظر آتا ہے۔ مگر دہلی میں جو لوگ اس طرح گاڑی کو گھیرتے ہیں وہ زیادہ تر بھیک مانگنے والے ہوتے ہیں۔ یہاں اس کے برعکس منظر تھا۔ یہ لوگ اپنے ہاتھوں میں مختلف قسم کے سامان لئے ہوئے ہوتے اور ان کو فروخت کرتے تھے۔ یورپ کے شہروں میں آپ جائیں تو وہ ہاں آپ کو دونوں میں سے کوئی منظر بھی دکھائی نہیں دے گا۔ دکار میں میرا قیام ہوٹل نووٹل (Novotel) میں کمرہ نمبر ۲۳۸ میں تھا۔ پہلی نماز جو میں نے اس ہوٹل میں پڑھی وہ مغرب کی نماز تھی۔ کسی نئے مقام پر نماز پڑھنا ہمیشہ میرے لئے ایک عجیب تجربہ ہوتا ہے۔ ایسے مواقع پر اکثر یہ احساس ہونے لگتا ہے کہ شاید میں پہلا شخص ہوں جو اس مقام

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader