ایک سفر
Urdu book, p. 99
By Maulana Wahiduddin Khan
پر رب العالمین کے آگے سجدہ ریز ہو رہا ہے۔ یہ ہوٹل کسی بیرونی کمپنی نے بنایا ہے۔ وہ سمندر کے عین کنارہ ہے۔ پورا ماحول نہایت خوش منظر ہے۔ ہوٹل کے طعام خانہ میں فرانسیسی گانے کا ریکارڈ ٹھیمی آواز سے بہتا رہتا تھا۔ یہ غالباً یورپی سیاحوں کی رعایت سے ہے، جن میں اکثریت فرانسیسیوں کی ہوتی ہے۔ اس مجبورانہ سماعت کے دوران سمجھ میں آیا کہ کیا وجہ ہے کہ اردو نہ جاننے والے لوگ بھی اردو غزل سننا پسند کرتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ فرانسیسی یا انگریزی گانے میں سننے والوں کے لئے وہ کیفیت نہیں جو غزل کے نغمہ میں پائی جاتی ہے۔ دکار (Dakar) سینیگال کی راجدھانی ہے۔ وہ افریقہ کی مغربی سرحد پر واقع ہے ۔ اپنی جغرافی اہمیت کی بنا پر دکار افریقہ کے اہم شہروں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔ ۱۹۰۴ء سے ۱۹۵۹ تک وہ مغربی افریقہ میں فرانس کا سیاسی مرکز تھا۔ شہر کی آبادی ایک ملین سے کچھ زیادہ ہے۔ سینیگال کی آبادی میں ۹۵ فی صد سے زیادہ مسلمان ہیں۔ دکار میں ڈوچ ۱۶۲۱ میں آگئے تھے۔ فرانسیسیوں نے ۱۶۷۷ میں اس پر قبضہ کیا۔ ایک زمانہ میں دکار غلاموں کی تجارت کا مرکز سمجھا جاتا تھا۔ فرانسیسیوں نے ۱۸۶۶ میں یہاں اسٹیم شپ کارخانہ قائم کیا۔ ۱۸۸۵ میں یہاں پہلی ریلوے لائن بچھائی گئی۔ یہ ریلوے لائن سینٹ لوئی اور دکار کے درمیان تھی ۔ ۱۹۱۴ میں دکار ایک ترقی یافتہ شہر بن چکا تھا۔ دوسری عالمی جنگ کے زمانہ میں اور اس کے بعد یہاں صنعت کو کافی ترقی ہوئی ۔ فرانسیسی اقتدار کے تحت پورا مغربی افریقہ اس کو وسیع مارکیٹ کے طور پر حاصل تھا۔ ۱۹۵۹ اور ۱۹۶۱ کے درمیان مغربی افریقہ کی فرانسیسی حکومت ٹوٹ گئی۔ اس کے بعد یہ علاقہ آٹھ آزاد ریاستوں میں بٹ گیا۔ اب اس کا مارکیٹ کا میدان بہت کم ہو گیا ہے۔ (5/437) دکار سے فرانسیسی قبضہ ختم ہو چکا ہے۔ مگر فرانسیسی تہذیب کے آثار اب بھی نماياں طور پر باقی ہیں۔ یہاں کی سرکاری زبان فرانسیسی ہے۔ تاہم عربی جاننے والے لوگ بھی کافی تعداد میں موجود ہیں۔ سینیگال کا رقبہ ۷۸۴۸۴ مربع میل ہے۔ اور آبادی تقریباً ۷۵۵۰۰۰ لوگوں پر مشتمل

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader