Urdu book · سفرنامہ اسپین و فلسطین

سفرنامہ اسپین

Urdu book, p. 103

By Maulana Wahiduddin Khan

دوسرے علمی میدانوں میں چلے جاتے ہیں جہاں انہیں اپنی صلاحیتوں کی زیادہ قیمت مل سکتی ہے، وہ استشرق کی طرف متوجہ نہیں ہوتے۔ انیسویں صدی عیسوی میں جرمنی میں بھی بہت سے بڑے بڑے مستشرق پیدا ہوئے۔ تاریخِ طبری کے متعلق عام خیال یہ تھا کہ وہ ضائع ہو چکی ہے لیکن جرمن مستشرق گڈ فریڈ سکارٹن نے اس کا مخطوطہ حاصل کیا اور برسوں کی محنت کے بعد اس کو درست کر کے شائع کیا۔ اسی طرح ایک اور جرمن مستشرق پروفیسر ساخو (Eduard Sachau, 1845-1930) جس نے طبقات ابن سعد پر غیر معمولی محنت کر کے اس کو مکمل شائع کیا، وغیرہ۔ مستشرقین نے قدیم عربی کتابوں کو ایڈٹ کر کے شائع کرنے میں انتہائی دیانت داری سے کام لیا ہے۔ تاہم جہاں تک خود ان کی اپنی تحریروں کا تعلق ہے، اپنے علم کی وسعت کے باوجود انہوں نے سخت غلطیاں کی ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کا ذہنی پس منظر اسلام کے مطابق نہیں۔ مثلاً پروفیسر ہیملٹن گپ (1895-1971ء) جو نسبتاً جدید مستشرق ہیں، وہ اچھی عربی جانتے تھے۔ انہوں نے حدیث میں پڑھا کہ بُعِثْتُ بِالْحَنِيفِيَّةِ السَّمْحَةِ (مسند احمد، حدیث نمبر 22291)۔ اس کے بعد انہوں نے اپنی کتاب محمدن ازم میں لکھ دیا کہ محمد نے اپنے مذہب کو پہلے حنیفہ کہا تھا۔ بعد کو انہوں نے اس کا نام اسلام رکھا۔ اس غلطی کی وجہ یہ ہے کہ پروفیسر گب کا ذہنی سانچہ ارتقائی تصور کے تحت بنا تھا، نہ کہ اسلام کے تصورِ وحی کے تحت۔ اسپین میں مسلمانوں نے جس زمانہ میں شاندار تہذیب بنائی، اس زمانہ میں مواصلاتی ذرائع بہت محدود تھے۔ تاہم اس کی امتیازی خصوصیت کی بنا پر اس کی شہرت دور دور تک پہنچ گئی۔ جرمنی کی ایک خاتون شاعرہ راز وتھا(Hrosvitha)، جون بھی تھی۔ وہ گینڈرشیم(Gandersheim) میں 935ء میں پیدا ہوئی، 1000ء میں اس نے انتقال کیا۔ اس جرمن شاعرہ نے غالباً اسپین کا سفر نہیں کیا تھا۔ مگر قرطبہ کے بارے میں اس نے بہت کچھ سنا تھا۔ اس کی ایک لاطینی نظم میں قرطبہ کے بارے میں یہ الفاظ تھے کہ دنیا کا سب سے زیادہ شان و شوکت والا شہر: Cordova, the brightest splendour of the world.

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page