Urdu book · سفرنامہ اسپین و فلسطین

سفرنامہ اسپین

Urdu book, p. 104

By Maulana Wahiduddin Khan

فرانس کی جانب جرمنی کی سرحد پر ایک تاریخی شہر ہے جس کا نام لارین (Lorraine) ہے۔ یہ شہر 925ء میں جرمنی کے قبضہ میں آیا۔ اس کے بعد کئی صدیوں تک وہ جرمنی کے قبضہ میں رہا۔ آج کل وہ فرانس میں شامل ہے۔ مسلم اسپین کے اثرات فرانس کے راستہ سے لارین تک پہنچے تھے۔ فلپ ہٹی نے اپنی کتاب ہسٹری آف دی عربس میں لکھا ہے کہ دسویں صدی عیسوی میں عربی سائنس لارین پہنچی۔ اس کے اثر سے یہ علاقہ دوصدیوں تک ایک سائنٹفک سینٹر بنا رہا۔ قریب کے دوسرے علاقے بھی عرب علم کو قبول کرنے کے لیے بہت زرخیز ثابت ہوئے۔ لارین سے یہ علم جرمنی کے دوسرے حصوں تک پہنچ گیا۔ جرمن بادشاہوں کے سفیر اسپین کے مسلم حکمرانوں کے دربار میں جانے لگے۔ 953ء میں جرمن بادشاہ آٹو اول (Otto I) نے جان نامی ایک شخص کو قرطبہ بھیجا۔ وہ وہاں تقریباً تین سال تک رہا۔ غالباً اس نے عربی زبان سیکھی اور واپسی میں اپنے ساتھ عربی کی سائنسی کتابیں لے آیا۔ اس طرح اسپین کا عرب علم پورے مغربی یورپ میں پھیل گیا (صفحہ 90-589)۔ ایک اور مستشرق نے لکھا ہے کہ لیان یا نواری یا بارسلونہ کے مسیحی حکمرانوں کو جب بھی ایک سرجن یا آرکیٹیکٹ یا ماسٹر سنگر یا ڈریس میکر کی ضرورت ہوتی تو وہ قرطبہ سے اس کی درخواست کرتے تھے۔ مسلم راجدھانی کی شہرت جرمنی تک پہنچ گئی تھی جہاں ایک جرمن نَن نے اس کو دنیا کا ہیرا (Jewel of the World) قرار دیا۔ (صفحہ 527) رلکے (Rainer Maria Rilke) مشہور جرمن شاعر ہے۔ وہ 1875ء میں پیدا ہوا اور 1926ء میں اس کی وفات ہوئی۔ جرمن مستشرقین نے جن عربی کتابوں کے ترجمے جرمن زبان میں کئے تھے اور اسلام پر جو کتابیں لکھی تھیں، ان میں سے کچھ کتابوں کو رلکے نے پڑھا۔ اس نے اگرچہ اسلام قبول کرنے کا اعلان نہیں کیا مگر وہ اسلام سے متاثر تھا۔ ڈاکٹر عبد الرحمن بدوی نے رلکے پر عربی زبان میں ایک مستقل کتاب لکھی ہے۔ اس میں رلکے کے ایک خط کا عربی ترجمہ دیا گیا ہے۔ یہ ایک مفصل خط ہے۔ اس میں اس نے لکھا تھا کہ جب سے میں نے قرطبہ کا سفر کیا ہے، مجھ کو مسیحیت سے سخت بیزاری ہو گئی ہے۔ میں قرآن کو

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page