Urdu book · سفرنامہ اسپین و فلسطین

سفرنامہ اسپین

Urdu book, p. 110

By Maulana Wahiduddin Khan

فرینکفرٹ سے دہلی کا سفر کیا، اس میں تقریباً بیساڑھے چار سو سیٹیں تھیں۔ یہ ایک چھوٹی سی مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ موجودہ زمانہ میں کمپیوٹر اور انڈسٹریل تہذیب نے کیسا نظام بنایا ہے اور کس طرح وہ عالمی سطح پر نہایت صحت مندی کے ساتھ کام کر رہا ہے۔ یہ فرینکفرٹ سے دہلی کے لیے نان اسٹاپ فلائٹ تھی۔ ساڑھے سات گھنٹہ کی مسلسل پرواز کے بعد رات کو ڈیڑھ بجے ہمارا جہاز دہلی کے ہوائی اڈہ پر اتر گیا۔ یہاں جہاز سے نکل کر باہر جانے کے لیے آدمی ایک لمبی گیلری سے گزرتا ہے۔ ایک طرف یہ گیلری ہے اور دوسری طرف وسیع انتظار گاہ ہے۔ دونوں کے درمیان شیشہ کی دیوار حائل ہے۔ اس طرح دونوں طرف کے لوگ ایک دوسرے کو دیکھ سکتے ہیں۔ جس وقت میں گیلری سے دوسرے ہم سفر لوگوں کے ساتھ باہر کی طرف جا رہا تھا، اس وقت بہت سے لوگ انتظار گاہ میں بیٹھے ہوئے دکھائی دیے ۔ وہ یہاں اس انتظار میں تھے کہ آگے جانے والے جہاز سے اپنی منزل کی طرف روانہ ہو سکیں ۔ اس دنیا میں ہر اسٹیشن اور ہر ایئر پورٹ پر یہی منظر دکھائی دیتا ہے ۔ ہر وقت لوگ آتے ہیں اور کچھ لوگ واپس چلے جاتے ہیں ۔ یہی معاملہ زیادہ بڑے پیمانہ پر آخرت کے اعتبار سے ہے ۔ کچھ لوگ پیدا ہو کر دنیا میں آ رہے ہیں۔ اور کچھ لوگ اپنی مدتِ قیام پوری کر کے آخرت کی طرف واپس چلے جاتے ہیں ۔ یہ آنا اور جانا اسی طرح جاری رہے گا۔ یہاں تک کہ قیامت آ جائے اور دو دنیاؤں کے نظام کو ختم کر کے صرف ایک دنیا کا نظام ابدی طور پر قائم کر دیا جائے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page