سفرنامہ اسپین
Urdu book, p. 109
By Maulana Wahiduddin Khan
سوال: جاپانیوں نے ہماری سرکار کو تسلیم کیا ہے۔ ہمیں ہر طرح کی مدد بھی دے رہے ہیں۔ مگر وہ ہماری عزت نہیں کرتے۔ ان کے سپاہی ہمارے افسروں کو سلوٹ تک نہیں کرتے۔ پورٹ ڈکسن میں جب ہم جاپانیوں سے ٹریننگ لینے گئے تھے تو ہم نے اپنے جاپانی انسٹرکٹر سے کہا کہ آپ ہمیں ایک آزاد حکومت کے افراد تسلیم کرتے ہوئے بھی ہمارے افسروں کی عزت نہیں کرتے۔ جاپانی انسٹرکٹر نے جواب دیا کہ آپ کی آزاد حکومت آخر بنائی ہوئی کس کی ہے؟ جواب: چند ایک افراد کے غلط رویہ اور بد دماغی کے کارن ہم سب جاپانیوں کو برا نہیں کہہ سکتے (ہندو سماچار، جالندھر۔ 23 جنوری 1995ء)۔ فرینکفرٹ سے دہلی کے لیے لفتھانسا کی فلائٹ نمبر 760 کے ذریعہ روانگی ہوئی ۔ جہاز چلنا شروع ہوا تو اعلان کرنے والی خاتون نے خالص ہندی لہجہ میں یہ الفاظ کہے: لفتھانسا کی اس اڑان پر ہم آپ کا ہاردک سواگت کرتے ہیں۔ لفتھانسا ایک جرمن کمپنی ہے۔ مگر اس کی موجودہ پرواز میں زیادہ تر ہندوستانی مسافر ہیں۔ اس لیے مسافروں کی رعایت سے انہوں نے کلام کا یہ انداز اختیار کیا۔ تاجر کو جو تعلق اپنے گاہک سے ہوتا ہے، داعی کو وہی تعلق اپنے مدعو سے ہوتا ہے۔ لوگوں میں اگر دعوتی جذبہ آ جائے تو وہ اپنے مدعو کی رعایت کریں گے۔ وہ اپنے جذبات سے زیادہ مدعو کے جذبات کا لحاظ کریں گے۔ تاجر اگر اپنے گاہک کی رعایت نہ کرے تو وہ اپنے گاہک کو کھودے گا، اسی طرح داعی اگر اپنے مدعو کی رعایت نہ کرے تو وہ مدعو کو دور کرنے کا سبب بن جائے گا۔ 30 نومبر کی رات کو لفتھانسا کی فلائٹ میں میرے لیے جو کھانا آیا، اس کی پیکنگ پر جرمن میں میرا نام چھپا ہوا تھا۔ اسی کے ساتھ جرمن اور انگریزی میں لکھا ہوا تھا کہ اپنی پسند کے کھانے کا لطف اٹھائیے: Enjoy your meal دہلی میں ریزرویشن کے وقت یہ لکھوا دیا گیا تھا کہ مجھے سفر میں انڈین ویجیٹیریئن میل چاہیے۔ حسب قاعدہ یہ ہدایت ہر جگہ کے کمپیوٹر پر ریکارڈ ہو گئی۔ چنانچہ اس سفر میں آتے اور جاتے ہوئے میں نے چار جہاز استعمال کیے جو تین مختلف کمپنیوں سے تعلق رکھتے تھے اور ہر ایک میں خود بخود ’’اسپیشل میل‘‘ کے لیبل کے ساتھ میرا مطلوب کھانا میرے لیے آتا رہا۔ موجودہ جہاز جس میں نے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader