Urdu book · سفرنامہ اسپین و فلسطین

سفرنامہ فلسطین

Urdu book, p. 112

By Maulana Wahiduddin Khan

سفرنامہ فلسطین روم کی مسیحی تنظیم (The Community of S. Egidio) کی طرف سے یروشلم میں ایک انٹرنیشنل کانفرنس ہوئی۔ اس میں یہودیت، مسیحیت اور اسلام کے نمائندے اکٹھا ہوئے۔ اس کی دعوت پر فلسطین کا سفر ہوا۔ ذیل میں اس سفر کی روداد درج کی جاتی ہے۔ 26 ستمبر 1995 کی شام کو سفر پر روانگی ہوئی۔ ایئر پورٹ کے راستہ میں مغرب کی نماز کا وقت ہو گیا۔ یہاں کنٹونمنٹ ایریا میں ایک مسجد ہے۔ اس کے چاروں طرف دور تک سبزہ دکھائی دیتا ہے۔ گاڑی سڑک کے کنارے روک کر مسجد میں پہنچا۔ جماعت کھڑی ہو چکی تھی۔ امام صاحب نے سورہ الکوثر تلاوت کرتے ہوئے کہا: فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ اِنَّ شَانِئَكَ هُوَا لْاَبْتَرُ (3-2 :108)۔ یعنی، پس اپنے رب کے لیے نماز پڑھو اور قربانی کرو۔ بیشک تمہارا دشمن ہی بے نام ونشان ہے۔ دل سے دعا نکلی کہ خدایا، تیرے حکم کے مطابق میں نے نماز ادا کر لی۔ اب تو اِنَّ شَانِئَكَ هُوَا لْاَبْتَرُ کے وعدہ کو میرے لیے پورا فرما۔ امام صاحب نے بتایا کہ اس مسجد کا نام الحبیبیہ مسجد ہے۔ اس مخصوص علاقہ میں ایک خوب صورت مسجد کو دیکھ کر خیال آیا کہ کچھ مسلم لیڈروں کی نادانی سے اس ملک کے مسلمانوں نے اگر چہ بہت کچھ کھو دیا ہے۔ مگر اب بھی یہاں ملک کے طول و عرض میں تقریباً چار لاکھ ایسی مسجدیں موجود ہیں جو اہل توحید کے لیے امید اور اعتماد کا نشان ہیں۔ فیضی کا یہ شعر مسلمانوں کے لیے مزید اضافہ کے ساتھ سچا ثابت ہوا ہے: گفته گردش کفم شکر که نا گفته بجا است از دو صد گنج یکی مشت گہر باخته ام دہلی کے انٹرنیشنل ایئر پورٹ پر میں فلائٹ کے انتظار میں بیٹھا ہوں۔ کچھ لوگ خوش پوش اور خوش باش چہرہ کے ساتھ چلتے ہوئے نظر آئے۔ ایسا محسوس ہوا جیسے وہ یہ کہہ رہے ہوں کہ ہم کامیاب ہیں۔ ہماری جیب میں پیسے ہیں۔ ہم اپنی پسند کی کوئی بھی چیز دنیا کے بازار سے خرید سکتے ہیں۔ ہم اپنی راحت اور خوشی کی کوئی بھی قیمت ادا کر سکتے ہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page