Urdu book · سفرنامہ اسپین و فلسطین

سفرنامہ فلسطین

Urdu book, p. 113

By Maulana Wahiduddin Khan

میرے دل نے کہا کہ کیسا جھوٹا احساس کامیابی ہے جس میں لوگ جی رہے ہیں۔ کاش انہیں اصل حقیقت سے آگاہ کیا جا سکے ۔ کاش وہ اس جھوٹے بھرم سے باہر نکل سکیں۔ میرے سفر کا راستہ یہ تھا: دہلی، بمبئی، تل ابیب، دہلی۔ ایئر انڈیا کی فلائٹ 311 کے بعد دہلی سے روانگی ہوئی۔ جہاں کا مقررہ وقت 9 بجے شام تھا۔ مگر جہاز ڈیڑھ گھنٹہ کی تاخیر سے روانہ ہوا۔ دہلی سے بمبئی کی دوری 1170 کلومیٹر ہے جو پونے دو گھنٹہ میں پوری ہوئی۔ دوران پرواز ایئر انڈیا کی فلائٹ میگزین نمسکار (جولائی۔ اگست 1995ء) دیکھا۔ اس کے ایک صفحہ پر اوپر کے درجے کے مسافروں سے کہا گیا تھا کہ فرسٹ کلاس اور ایگزیکٹیو کلاس کے مسافروں کے لیے دوران سفر میں بلا انقطاع تفریح (non-stop entertainment) کا انتظام کیا گیا ہے۔ میری سیٹ کے ساتھ ایرفون رکھا ہوا تھا مگر میں نے اس کو استعمال نہیں کیا۔ اس قسم کی تفریحات نے انسان سے یہ موقع چھین لیا ہے کہ وہ کائنات میں بکھری ہوئی خدا کی تجلیات پر غور کرے اور ان سے اپنی روح کے لیے ربانی غذا حاصل کرے ۔ کائنات میں ہر طرف خدائی نغمے بلند ہورہے ہیں مگر انسان نے ”ہیڈفون لگا کر اپنے آپ کو اس سے محروم کر لیا ہے کہ وہ زیادہ اعلیٰ نغمات خداوندی کوسن سکے۔ بمبئی کے انٹرنیشنل ایئر پورٹ پر اترا تو یہاں بہت زیادہ بھیڑ نظر آئی۔ مسلمان اور عرب بھی کافی تعداد میں تھے ۔ ایئر پورٹ پر لمبی مسافت طے کر کے کے ایل آل کے کاؤنٹر پر پہنچا۔ یہاں ایک خاتون نے کہا کہ میں ایل آل کی طرف سے سکیورٹی چیک کے لیے ہوں اور میں آپ سے سوالات کروں گی۔ یہ خاتون آدھا گھنٹہ تک مجھ سے طرح طرح کے بے معنی سوالات کرتی رہی: آپ کہاں سے آئے ہیں۔ کہاں جا رہے ہیں۔ آپ کا ٹکٹ کس نے خریدا ہے۔ آپ کو کسی نے کوئی گفٹ دیا ہے۔ آپ کے بیگ میں کیا کیا چیزیں ہیں۔ آپ کا یہ پاسپورٹ نیا ہے پھر پچھلا پاسپورٹ کہاں ہے۔ اس بیگ میں جو کچھ ہے وہ کس کا ہے۔ اگر سب سامان نکال دیا جائے تو بیگ کس کا ہے۔ آپ دہلی میں رہتے ہیں تو دہلی سے کیوں نہیں گئے، بمبئی سے کیوں جا رہے ہیں۔ تقریباً آدھا گھنٹہ تک وہ اس قسم کے سوالات کرتی رہی۔ میں پہلے تو معتدل انداز میں اس کا جواب دیتا رہا۔ مگر جب میں نے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page