Urdu book · سفرنامہ اسپین و فلسطین

سفرنامہ فلسطین

Urdu book, p. 124

By Maulana Wahiduddin Khan

ابن کثیر نے اپنی تفسیر قرآن میں لکھا کہ: "إِلَى الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى" وَهُوَ بَيْتِ الْمُقَدِّسِ (تفسیر ابن کثیر، جلد 3، صفحہ 2)۔ یہی بات قرطبی نے بھی لکھی ہے کہ: أَسْرَى بِهِ مِنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى وَهُوَ بَيْتُ الْمُقَدِّسِ (تفسیر القرطبی، جلد 10، صفحہ 210)۔ اسی طرح مولانا شبیر احمد عثمانی نے اپنی تفسیر قرآن میں لکھا ہے کہ یعنی جس ملک میں مسجد اقصی (بیت المقدس) واقع ہے (صفحہ 365)۔ مولانا ابو الکلام مودودی نے اپنی تفسیر میں لکھا ہے: مسجد حرام یعنی بیت اللہ سے مسجد اقصی یعنی بیت المقدس تک (تفہیم القرآن، جلد 2، صفحہ 588)۔ مسجد اقصی کا مسئلہ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کے نزدیک ان کا سب سے زیادہ بڑا مسئلہ ہے۔ اس کے بارے میں ساری دنیا کے مسلم پریس میں مسلسل مضامین اور رپورٹوں کی اشاعت کا سلسلہ جاری ہے۔ مگر بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مسئلہ کی اصل نوعیت کے بارے میں لوگوں کی معلومات بے حد کم ہیں۔ ہر ایک بس جذباتی انداز کی تحریریں شائع کر رہا ہے۔ مثلاً مسجد اقصی کی بازیابی پر ایک مضمون چھپے گا اور اس کے ساتھ جو تصویر شامل کی جائے گی وہ بیت المقدس کی ہوگی۔ حالانکہ دونوں واضح طور پر دو الگ الگ عمارتیں ہیں اور دونوں کی نوعیت ایک دوسرے سے بالکل الگ ہے۔ مثلاً بمبئی کے ایک ماہنامہ میں اس مسئلہ پر ایک نہایت جذباتی تحریر شائع ہوئی ہے۔ اس کے ساتھ مسجد اقصی کی تصویر ہے اور اس تصویر کے نیچے لکھا ہوا ہے: ’’مسجد اقصی کو یہودی تولیت سے آزادکراؤ‘‘۔ اصل مضمون جو نہایت جذباتی انداز میں لکھا گیا ہے۔ اس کے چند جملے یہ ہیں: ’’جہاں تک مسجد اقصی کا تعلق ہے اس پر پورے عالم اسلام کا حق ہے اور اس پر یہودیوں کے غاصبانہ تسلط کو عالم اسلام کبھی برداشت نہیں کر سکتا اور جب تک یہودی اس پر قابض ہیں دنیا کا ایک ایک مسلمان اس کی آزادی کے لیے جہاد کرتا رہے گا اور عالم اسلام میں اس وقت تک امن و چین کا ماحول پیدا نہیں ہو گا جب تک مسلمانوں کا پہلا قبلہ اور پیغمبر اسلام کے معراج کی پہلی منزل یہودیوں سے آزاد نہیں ہو جاتی۔ اس لیے مسجد اقصی اور عالم اسلام کے دوسرے مقامات مقدس کی بابت یہودیوں سے ساز باز اور ان سے سیاسی سودے بازی کو مسلمان کبھی تسلیم نہیں کر سکتے۔ اور اس سلسلہ میں مصری علماء اور شیخ الازہر کے کسی فتوے کو دنیا کے مسلمان تسلیم نہیں کر سکتے۔ مسجد اقصی مسلمانوں کی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page