Urdu book · سفرنامہ اسپین و فلسطین

سفرنامہ فلسطین

Urdu book, p. 123

By Maulana Wahiduddin Khan

اصل یہ ہے کہ حضرت یعقوب نے جس مقام پر یہودی معبد کی بنیاد رکھی تھی، اسی مقام پر بعد کو ہیکل سلیمانی کی تعمیر کی گئی۔ اس ہیکل کو ایک سے زیادہ بار تباہ کر دیا گیا۔ معراج کے وقت یہاں زیادہ تر کھنڈر تھا۔ مولانا عبد الماجد دریا آبادی نے لکھا ہے کہ قرآن میں (المسجد الاقصیٰ) سے مراد جگہ ہے، نہ کہ کوئی عمارت: (Masjid) properly denotes the site, not the building of a mosque. (3/2) مسجد اقصیٰ بظاہر ہیکل سلیمانی کے کھنڈر پر بنائی گئی اور بیت المقدس کی تعمیر صخرہ (چٹان) کے اوپر ہوئی۔ یہاں دیکھ کر معلوم ہوا کہ مسجد اقصیٰ ایک بہت بڑے ہال کی مانند ہے اور وہ پورے معنوں میں ایک مسجد ہے۔ مگر بیت المقدس معروف معنوں میں کوئی مسجد نہیں ہے۔ اس کی تعمیر مقبرہ جیسی ہے۔ جس طرح ہمارے یہاں قبر کے اوپر گنبد بنایا جاتا ہے۔ اسی طرح صخرہ کے اوپر گنبد بنایا گیا ہے۔ اس کے اندر با جماعت نماز نہیں ہو سکتی۔ اسی لیے یہاں کسی موقع پر نماز ہوتی ہے تو قبہ کے باہر میدان میں صفیں قائم کی جاتی ہیں۔ صخرہ کے متعلق یہود کی روایت ہے کہ یہاں ان کے ستر نبی قتل کیے گئے۔ ان میں حضرت یحییٰ بن زکریا بھی تھے۔ یہود کا عقیدہ ہے کہ حضرت ابراہیم نے اپنے بیٹے کی قربانی بھی اس صخرہ پر کی تھی۔ ان کے نزدیک یہ حضرت اسحاق تھے۔ کیونکہ وہ لوگ حضرت اسحاق علیہ السلام ہی کو ذبیح مانتے ہیں (البدالیہ والنھایہ، جلد 2، صفحہ 55)۔ کویت کے میگزین مجتمع (یکم اگست 1995) میں سعودیہ کے سعود محمد الزعمی نے لکھا تھا کہ 80 فیصد مسلمان یہ سمجھتے ہیں کہ قبة الصخرہ ھی المسجد الاقصیٰ ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اصل تعداد اس سے بھی زیادہ ہے۔ غالباً 99 فیصد لوگ اسی غلط نہی میں مبتلا ہیں اور یہ غلط نہی بہت پہلے سے چلی آ رہی ہے۔ ابن ہشام نے ابن اسحاق سے نقل کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ لے جایا گیا اور وہ بیت المقدس ہے (ثُمَّ أُسْرِيَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى، وَ هُوَ بَيْتُ الْمَقْدِس) سیرۃ ابن ہشام، جلد 1، صفحہ 396۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page