Urdu book · سفرنامہ اسپین و فلسطین

سفرنامہ فلسطین

Urdu book, p. 128

By Maulana Wahiduddin Khan

تالیف غالب تھی (فَاخْتَارَ بَيْتَ الْمَقْدِسِ لِكَيْ يَتَأَلَّفَ أَهْلَ الْكِتَابِ) تفسیر الطبری، جلد 2، صفحہ 623۔ بیت المقدس کتنے عرصہ تک قبلہ رہا، اس میں اختلاف ہے۔ بعض روایتوں کے مطابق سولہ ماہ، بعض کے مطابق سترہ ماہ اور بعض کے مطابق انیس ماہ۔ غالباً اس اختلاف کی وجہ یہ ہے کہ جن راویوں نے انصار کے زمانہ کو شامل کرکے بتایا انہوں نے زیادہ مدت بتائی اور جنھوں نے صرف رسول اللہ کی مدت کو بتانا چاہا انہوں نے کم مدت بیان کی۔ اس وقت بیت المقدس کی موجودہ عمارت (قُبَّہ) موجود نہ تھی۔ اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دراصل صخرہ (چٹان) کو قبلہ بنایا تھا، جس کو یہود مقدس سمجھتے تھے اور وہی یہود کا قبلہ تھا (كَانَ يَسْتَقْبِلُ صُخْرَةَ بَيْتِ الْمُقَدَّسِ وَهِيَ قِبْلَةُ الْيَهُودِ) تفسیر الطبری، جلد 2، صفحہ 622۔ ابن کثیر نے حضرت عمر کے سفر کے بارے میں ایک روایت یہ نقل کی ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ مدینہ سے گھوڑے پر بیٹھ کر روانہ ہوئے تاکہ سفر تیزی سے طے ہو سکے اور مدینہ میں حضرت علی کو اپنا قائم مقام مقرر کیا۔ اس طرح چلتے ہوئے وہ جابیہ (سرحد فلسطین) پر پہنچے (البدایہ والنھایہ، جلد 7، صفحہ 56)۔ دوسری روایت کے مطابق، آپ کا سفر اونٹ کے ذریعے طے ہوا۔ اسی طرح اس میں بھی اختلاف ہے کہ سفر کس طرح طئے ہوا۔ ایک روایت کے مطابق، آپ اور آپ کا غلام دونوں اونٹ پر باری باری بیٹھتے تھے۔ ایک اور روایت کے مطابق، تین باری تھی۔ ایک بار آپ اور ایک بار غلام سوار ہوتا تھا اور تیسری بار اونٹ کو خالی رکھا جاتا تھا تا کہ وہ آرام کرلے۔ خلیفہ ثانی عمر فاروق 638ء میں فاتحانہ طور پر یروشلم میں داخل ہوئے تھے۔ اس کے بعد سے فلسطین مسلسل مسلمانوں کے قبضہ میں رہا۔ بارہویں صدی عیسوی میں مسیحیوں نے یروشلم پر قبضہ کر لیا جو 88 سال تک جاری رہا۔ اس قبضہ کو صلاح الدین ایوبی نے 1187ء میں ختم کیا۔ ایک صاحب سے گفتگو کرتے ہوئے میں نے کہا کہ بظاہر صلاح الدین ایوبی نے یہ کامیابی صرف ایک دن (4 جولائی 1187) کی جنگ حطین میں حاصل کی تھی۔ مگر یہ کامیابی جوش کا نہیں بلکہ تیاری کا نتیجہ تھی۔ اس ایک دن کی فتح کے لیے صلاح الدین نے کئی سال تک غیر معمولی تیاریاں کی تھیں، یہاں تک کہ اس کی فوجی طاقت لاطینی صلیبیوں کے برابر ہوگئی۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page