Urdu book · سفرنامہ اسپین و فلسطین

سفرنامہ فلسطین

Urdu book, p. 129

By Maulana Wahiduddin Khan

مورخین نے اعتراف کیا ہے کہ مسلمانوں نے جب یروشلم کو فرینک (Franks) کے قبضہ سے واپس لیا تو انہوں نے وہاں کے باشندوں سے انتہائی شرافت کا معاملہ کیا۔ مسیحیوں نے یروشلم پر قبضہ کیا تو انہوں نے وحشیانہ طور پر وہاں کے باشندوں کو قتل کیا تھا اور آزادانہ طور پر لوگوں کا خون بہایا تھا۔ اس کے بالکل برعکس مسلمانوں کی دوبارہ فتح ممتاز طور پر شائستگی کا انداز لیے ہوئے تھی۔ صلاح الدین اور اس کے فوجیوں نے لوگوں سے نہایت فیاضانہ سلوک کیا: In stark contrast to the city`s conquest by the Christians, when blood flowed freely during the barbaric slaughter of its inhabitants, the Muslim reconquest was marked by the civilized good faith and courteous behaviour of Saladin and his troops.(EB. 16/177) صلاح الدین ایوبی نے 583ھ میں یروشلم (قدس) کو فتح کیا تھا۔ اس وقت یہ ایک حصار بند شہر تھا اور نہایت مشکل کے ساتھ اس کی فتح ممکن ہوسکی۔ فتح کے بعد جب مسلمان اندر داخل ہوئے تو مسجد اقصی اور قبتہ الصخرہ میں کثرت سے صلیب اور تماثیل وغیرہ رکھی ہوئی تھیں۔ حتیٰ کہ کہا جاتا ہے کہ وہاں خنزیر بھی موجود تھے۔ مسلمانوں نے ان مقدس مقامات کی پوری صفائی کی اور اس کو پھر سے پاک کر کے اس کو عبادت کے قابل بنایا (البدایہ والنھایہ، جلد 12، صفحہ 324)۔ جیک برک ایک فرانسیسی تھا۔ وہ 1910ء میں الجزائر میں پیدا ہوا۔ اس وقت الجزائر پر فرانس کا قبضہ تھا۔ جیک برک کے فرانسیسی والدین ایک استعماری ادارہ میں کام کرنے کے لیے الجزائر آئے تھے۔ جولائی 1995ء میں اس کا انتقال ہو گیا۔ جیک برک نے الجزائر میں عربی زبان سیکھی اور اس میں کمال حاصل کر لیا۔ وہ اسلامی موضوعات پر ایک عالم کی طرح کلام کرتا تھا۔ اسلامی لٹریچر کے مطالعہ سے وہ اسلام سے غیر معمولی طور پر متاثر ہو گیا۔ حتیٰ کہ وہ اسلام کی حمایت و مدافعت کرنے لگا۔ اس کی کئی کتابیں اس موضوع پر ہیں۔ مثلاً العرب امس والیوم (1960ء)۔ اس نے قرآن کا فرانسیسی زبان میں ترجمہ بھی کیا جو ایک عمدہ ترجمہ شمار کیا جاتا ہے، وغیرہ۔ ایک عرب نے اس کی تعریف کرتے ہوئے کہا: أحب جان بیرک العربية والا سلام

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page